کلام پاک اور اس کی قسم کے انکار پر حکم شرعی کا سوال
میں کلام پاک کی قسم کو نہیں مانتا ہوں اور نہ کلام پاک کو مانتا ہوں“ کہنا! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: جناب سارخاں ولد لال خاں ، ساکن قصبہ مہرونی نے منصوری پہنچوں کے سامنے اور اس تحریر میں جن صاحبان کے دستخط ہیں ان صاحبان کے سامنے جناب حفیظ خاں کو کلام پاک کی قسم کھانے پر جناب سار خاں نے کہا کہ ” میں کلام پاک کی قسم کو نہیں مانتا ہوں اور نہ کلام پاک کو مانتا ہوں ، اس بات کو انہوں نے منصوری برادران کے سامنے ایک بار نہیں تین بار کہا۔ اس بات کو کہے ہوئے ان کو کافی عرصہ ہو گیا ہے۔ اب اس کے بعد مؤرخہ ۲۰ / اپریل ۱۹۹۱ء کو جناب اعلی بخش عرف مراد قانون گو صاحب کے یہاں خواجہ صاحب کی دیگ کا کھانا تھا وہاں پر حفیظ خاں نے برادران منصوری بنچوں کے سامنے کلام پاک کی قسم کھائی تو پھر سار خاں نے کہا کہ ”میں کلام پاک کی قسم کو نہیں مانتا ہوں اور نہ کلام پاک کو مانتا ہوں“۔ اس طرح کی تحریر ہندی میں دستخط شدہ بابت فتویٰ آپ کے پاس بھی جارہی ہے کہ منصوری پنچوں کے سامنے جناب سارخاں ولد لال خاں ساکن مہرونی نے یہ کہا ہے کہ ”میں کلام پاک کو نہیں مانتا ہوں‘ اور
الجواب: خط کشیدہ جملہ کفریہ ہے۔ جس شخص نے یہ جملہ کہا وہ اسلام سے خارج ہے۔ اس پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور جو اس کے اس جملہ سے راضی ہیں ان کا بھی ی حکم ہے جو قائل کا ہے اور اس کے ساتھ رہنا، اس کا ساتھ دینا سخت حرام ہے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ شرعی طور پر ثابت ہو کہ اس نے وہ جملہ کہا، بے ثبوت شرعی کسی مسلمان کی طرف کسی گناہ کی نسبت کرنا جائز نہیں۔ اور سوال فرضی نام سے کرنا چاہئے ۔ مسئول عنہ کا نام ظاہر نہ کرنا چاہئے ، بلکہ یوں پوچھے که مثلا زید، عمرو کے لئے کیا حکم ہے؟ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم