بقصد تحقیر قرآن وحدیث کی کتابیں جلانا کفر ہے
لائق صد احترام مفتی صاحب قبلہ! السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک لڑکی ہے اس کا شوہر بد معاش ہے اور لڑکی تین چار مرتبہ آئی گئی ہے۔ اور لڑکا سے کوئی فن ایسا نہیں ہے کہ باقی ہور ریوالور بھی رکھتا ہے۔ لڑکی کے میکے پر بھی حملہ کر دیا اور مزار شریف کی چادر اور قرآن شریف و دیگر کتا بیں چوری کر کے لے گیا سب جلا دیا اور وہ اپنی عادت سے باز نہیں آتا ہے تو ایسی صورت میں لڑکی جانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کے لئے شرع کا جو حکم ہو جواب مرحمت فرمائیں۔ اس سے زبر دستی طلاق لیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ ویسا جواب تحریر فرما ئیں۔ المستفتی: محمد خلیل قادری موضع سرسیا پوسٹ بڑھن جانا ضلع بستی
الجواب: قرآن شریف کو بہ نیت تحقیر جلانا بہت سخت ہے یونہی کتب اگر دینی ہیں تو ان کو بے وجہ قصداً جلانا بھی بہت سخت جرم ہے۔ اگر اس شخص کا جرم شرعاً ثابت ہے تو عند الناس جب تک تو بہ وتجدید ایمان نہ کرے وہ مسلم قرار نہ پائے گا کہ قرآن اور حدیث کی کتب کو بقصد تحقیر جلانا تو ہین قرآن و دین ہے اور یہ کفر ہے۔ اور کفر خود مزیل نکاح ہے۔ لہذا ایسی صورت میں طلاق لینے کی حاجت نہیں ، اس کی بیوی خود اس سے آزاد ہوگئی ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ / ذیقعدہ ۱۴۰۳ھ الجواب صحیح ! اگر فی الواقع قرآن مجید کو بے ادبی کی نیت سے جلایا تو وہ اسلام سے خارج اور عورت اس کے نکاح سے باہر ہوگئی ورنہ اس سے طلاق حاصل کی جائے جس صورت بنے ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف