ورلڈ قرآن سوسائٹی الہ آباد کے شائع کردہ گمراہ کن ترجمہ و تفسیر کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: مسجد املی والی محلہ پنجاب پورہ بریلی میں ایک ترجمہ و تفسیر کے ساتھ قرآن شریف دس ۱۰ رجز میں اور ہر جز میں دو پارہ ہیں ورلڈ قرآن سوسائٹی ناز کمرشیل مرزا غالب روڈ الہ آباد کی طرف سے شائع شدہ ہے جس ترجمہ و تفسیر کا کوئی نام نہیں ہے اس کا پہلا جز پارہ اتم پارہ سیفول ارسال خدمت ہے مطالعہ فرما کر ہم کو مطلع فرما ئیں کہ اس قرآن اور ترجمہ وتفسیر کو پڑھا جائے ؟ اور اگر نہیں تو کیا کیا جائے؟ فقط ۔ المستفتی : ساکنان محلہ پنجاب پوره بریلی شریف یوپی
الجواب: کتاب مذکور دیکھی اس کے سرسری مطالعے ہی سے یہ بات خوب روشن ہوگئی کہ یہ کتاب نہایت ہی گمراہ کن اہل سنت حفظہم اللہ تعالیٰ کے ایمان و عقیدے کی بیخ کنی کرنے والی ، وہابیت پھیلانے والی کتا ب ہے ہمیں جابجا انبیائے عظام و اولیائے کرام کے اختیار وتصرف علم غیب ، واسطه دوسیله، شفاعت جو اہل سنت کے معتقدات مسلم ہیں جن پر قرآن وحدیث ناطق ہیں، بڑے مکر و فریب سے انکار کیا ہے اور ایمان اپنے ہاتھ سے دیا ہے جا بجا سے چند عبارتیں گمراہی کی یہاں پر اسی کتاب کی نقل ہوتی ہیں۔ سورہ فاتحہ کی بزعم خویش تفسیر میں عبادت کے تین معنی پوجاو پرستش، اطاعت وفرماں برداری، بندگی اور غلامی بتا کر لکھا کہ : ” یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں، مطیع فرمان بھی ، بندہ غلام بھی اور بات صرف اتنی ہی نہیں کہ ہم تیرے سب متعلق رکھتے ہیں بلکہ واقعی حقیقت یہ ہے کہ یہ ہمارا تعلق تمہارے ہی لئے ہے۔“ ناظرین کرام دیکھیں کہ یہ بے ایمان کس طرح حضور اینی پیام ائمہ علماء و اولیاء کی اطاعت سے پھر رہا ہے اور قرآن سے پھر رہا ہے اللہ جل و علا نے اپنے حبیب لبیب احمد مجتبی سا لیا ایم کی اطاعت فرض فرمائی اور ان کی اطاعت اپنی اطاعت بنائی اور انھیں کے طفیل میں مسلم الرائے اور علماء کی اطاعت فرض مانی ۔ قال اللہ تعالی : اور فرماتا ہے رب کریم : من يُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ أَطَاعَ الله () جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (۲) اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے عالموں کی نیز حدیث میں ہے: اسمعوا واطیعواوان استعمل علیکم عبد حبشی کأن راسه زبيبة (۳) علما کے لئے ارشاد ہوا: فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ ) یعنی کیوں نہ ہو کہ ہر جماعت سے ایک گروہ نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کرے اور اپنی قوم کو ڈر سنائے ان میں واپس آکر کہ وہ ڈریں۔ دیکھو اللہ تعالیٰ صاف صاف علما کی طرف رجوع کرنا اور ان کا کہا ماننے کو فرمارہا ہے اسی کا نام ہے یہی صراط خیر حمید ہے مگر وہابیوں کی ایک آنکھ اندھی ایک پھوٹی ، ان کی یہی رٹ ہے کہ کسی کے ساتھ اطاعت وفرماں برداری کا تعلق نہیں۔ تقليد امام الطائفہ اسمعیل دہلوی جو کہہ گزرے کہ اللہ تعالیٰ کو مان اور وں کو ماننا غلط ہے۔ اسی لئے ہر وہابی رٹ لگاتا ہے تقلید شرک ہے وہ تو ان سب کا امام جو کہ چل بسا کہ کسی کے حکم کی سند پکڑ نا شرک ہے، اب ناظرین کرام بتائیں کہ اس شرک نے کسے چھوڑ ا ؟ ساری امت مسلمہ تو مشرک ہوئی غضب تو یہ کہ خدا و رسول بھی غیر خدا کی اطاعت کا حکم دے کر خود ہی مشرک ٹھہرے العیاذ باللہ العلی العظیم۔ خود کتاب والا آگے لکھتا ہے کہ: ” ان تینوں معنوں میں سے کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا ہمارا معبود نہیں ہے۔ یہ صاف صاف وہی مسلمانوں کو مشرک ٹھہرانا ہے کہ جب عبادت کے معنی اطاعت گڑھے اللہ تعالیٰ اعلم تو اب کسی کی اطاعت ہو شرک ٹھہری و لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم۔ شاید اسی وجہ سے مودودی صاحب نے تنقیحات میں تفسیر وحدیث سے یوں انکار کیا کہ قرآن کی تعلیم سب پر مقدم ہے مگر تفسیر وحدیث کے فرسودہ ذخیرہ سے نہیں تو قرآن پر آپ کیا ایمان لائیں گے جب تفسیر وحدیث سے انکار ہے۔ وقال تعالى : فَبِأَتِي حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (۱) وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَى مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ (٢) اور جب مودودی صاحب قرآن سے حکم دے چکے اور حدیث سے پھر چکے تو مودودی صاحب کو کیا پڑی تھی وضاحت میں قرآن کی تفسیر لکھنے کی ہمگر یہ کہ ان کے نزدیک دین اتباع ہوس کا نام اور انھیں اغواء عوام سے کام ہے العیاذ باللہ واسطہ اور وسیلہ اور شفاعت کو کتاب والا ایک ہی سطر میں یوں ہضم کر گیا: میں کائنات وفرمارواں کا مطلق تمام اختیارات اور تمام طاقتوں کا مالک تم سے اتنا قریب ہوں کہ تم خود بغیر کسی واسطے اور وسیلے اور سفارش کے براہ راست ہر وقت اور ہر جگہ مجھ تک اپنی عرضیاں پہنچاسکتے ہو“۔ اس عبارت سے وسیلہ، شفاعت اور اختیا رسب کا انکار ہے حالانکہ قرآن عظیم فرماتا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ - الآية () اللہ سے ڈرواے ایمان والو! اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ اور فرماتا ہے: يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ (٢) اللہ کے نیک بندے اللہ کی طرف نیکوں کا وسیلہ لاتے ہیں کہ کون اللہ سے زیادہ قریب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وسیلہ سنت اولیا ہے اور حکم خدا ہے مگر وہابی دھرم میں شرک ہے، کیا تو حید ہے کہ خود خدا حکم شرک دے کر مشرک ٹھہرے والعیاذ بالله تعالی۔ غیب کا بھی انکار مع انکار اختیار و تصرف وندا و استمداد اس کتاب میں موجود ہے، دیکھو صفحہ ۴۰ / نیز نذرونیاز سے بھی منع کیا گیا ہے اور اسے شرک ظاہر بتایا گیا ہے،ص ۴۲ حالانکہ یہ تو قرآن وحدیث سے ثابت بلکہ امام الطائفہ اسمعیل دہلوی کے کلمات سے فاتحہ ونیاز کا مستحسن ہونا ظاہر ہے۔ ان کا امام الطائفہ صراط مستقیم“ میں رقمطراز ہے: ہرگاہ ایصال نفع ہمیت منظور دارد موقوف بر اطعام نہ گزاردا گر میسر باشد بہترست والا صرف ثواب سورہ فاتحہ واخلاص بہترین ثوابها است اھ۔(۳) اسی میں ہے: ” عباد تیکه از مسلمان ادا شود و ثواب آن بروح کسے از گزشتگان برساند وطریق او (1) سورة المائدة: ۳۵ (۲) سورة الاسراء:۵۷ (۳) صراط مستقیم ص ۵۹ مطبع قیومی واقع در کانپور یوپی رسانیدن آں دعائے خیر بجناب الہی است پس این خود البتہ بہتر ومستحسن است (۱) اولیائے کرام کی نذر اور ان کے لئے جانور ذبح کرنے کا بھی جو از زبدۃ النصائح امام الوہابیہ سے لیجئے ، لکھا: اگر شخص بڑے راخانہ پرور کند تا گوشت او خوب شود اور ذبح کرده و پخته فاتحه حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوانده بخو را ندخلے نیست (۲) جمله مودودیان و غیر مقلدان و دیو بندیان طوائف وہابیہ اپنے امام الطائفہ کی عبارت دیکھیں کہ وہ کیسا صاف اولیائے کرام کی نیاز ان کے لئے جانور ذبح کرنے کا جواز لکھ رہا ہے اور ذرا لفظ 'غوث اعظم پر نظریں جمائیں بھلا غوث اعظم کے کیا معنی ہوتے ہیں بہت بڑا فر یا درس اور یہی بیچاری وہابیت کا دل جلاتا اسی پر تو ان کا شرک منھ پھیلاتا ہے تو اب بول چلیں کہ یہ شرک بول کر امام الطائفہ مشرک ہوا کہ نہیں اور جب وہ مشرک ہوا تو مشرک کو آپ امام و مفتی وسید لکھنے والے کون ہوئے؟ لله الحمد جس نذر و نیاز کو کتاب والا شرک کہتا ہے ، اولیا انبیا فریادرس سے انکار کرتا ہے اس کا ثبوت خود امام الوہابیہ دے رہا ہے نیز امام الطائفہ رقمطراز ہے : ” جانورے کہ نذر اولیاء کرده باشند اگر چہ چنداں نذر به وجه حرام وقتی هم کنند تا هم در حلت جانورے سنے نیست‘ فکیف که نذ راولیاء بر وجه حسن باشد چہ جائے آنکہ محض بے نذرا ایصال ثواب شود چه محل آن که از ذبح جانور واراقت دم اثر نبود ہمیں قراءت قرآنی و تصدق طعامے بمیان آید (۳) اس عبارت سے بحمدہ تعالیٰ نذر اولیا کا حکم جبکہ میت کی طرف تقرب کی نیت ہو تو جائز اور یہی محمدہ تعالیٰ مسلک اہل سنت ہے اور اولیا کے لئے ذبح کئے جانور کے گوشت کا حلال ہونا مطلقاً بتا یا مگر اذناب امام الطائفہ اپنے امام و مقتدا کی عبارتوں سے بھی انکار کر کے طعام فاتحہ کو حرام ومردار بتاتے ہیں ولاحول ولاقوة الا بالله العلی العظیم بالجمله کتاب مذکور نہایت گمراہ کن ہے اس سے احتراز ،، (1) صراط مستقیم ص ۵۰ مطبع قیومی واقع در کانپور یوپی (۲) تقریر ذبیحہ مندرج مجموعه زبدة النصائح رساله نذور از اسمعیل دہلوی ( از فتاوی رضویہ مترجم ج۲۱، ص ۳۳۵ رضا اکیڈمی ) (۳) تقریر ذبیحہ مندرج مجموعه زبدة النصائح رساله نذور از اسمعیل دہلوی ( از فتاوی رضویہ مترجم ج ۹، ص ۷۸ ۵ رضا اکیڈمی ) لازم ہے هذا ما عندی والعلم بالحق عند ربي و هو حسبی و صلی الله تعالی علی سیدنا محمد وآله وصحبه وبارک وسلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله