قرآن و حدیث کے بیان کو بھاشن کہنے اور دینی تعلیم میں رکاوٹ پیدا کرنے کا حکم
قرآن شریف کی آیت اور حدیث کے بیان کو بھاشن بتانا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس مسئلے میں کہ: جمعہ کے دن اذان کے بعد جمعہ کے خطبہ سے قبل جو آدھا گھنٹہ وقفہ دیا جاتا ہے اس وقفہ میں کچھ لوگ سنت مؤکدہ پڑھ کے محلے میں بیٹھ کر بیٹڑی سگریٹ پیتے یا دھوپ میں جا کر دنیاوی باتیں مسجد کی دیوار وں پر، اونچے پر بیٹھ کر کرتے ہیں، کچھ لوگ اونگھ جاتے اور گر پڑتے اور کچھ لوگوں کے اونگھ ہی میں بائی چلنے کے بھی واقعات ہوتے رہتے ہیں اس حالت کو دیکھ کر مسجد کمیٹی کے صدر متولی قاضی حاجی جود مینیات میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں خطبہ سے قبل صرف ۱۵ رمنٹ جس میں ۵ رمنٹ مدرسہ مسجد کے آمدو خرچ کا حساب بتانا کیونکہ مسجد مدرسہ کی کوئی وقف جائداد پہلے سے نہیں ہے یہ کام صرف ماہوار چندہ سے چلتا ہے اس کے لئے عاجزی سے لوگوں سے کہنا کہ ناجائز خر چوں سے بچو اور یہ ماہوار چندہ ضرور دو جس سے کام چلتا رہے، پیش امام حافظ صاحب کی تنخواہ بجلی چٹائی وغیرہ کا خرچہ نکلتا ہے اور باقی قریب ۱۰رمنٹ نماز یاماں باپ کی خدمت کرنا ، نماز کے ارکان یا فرض بتانا ، ان باتوں کے بتانے پر ایک شخص کچھ لوگوں کا مشورہ ملا کر کہتا ہے یہ بھاشن ہیں۔ تقریر کے ٹائم میں پیچھے سے آدمیوں کی گردنیں پھاند کر تقریر کی صف میں آکر یہ کہنا کہ تم چیں چیں مت کرو خاموش رہو مجھے سنتیں پڑھنے دو، نماز کے ارکان بتانے کا سارٹیفکٹ حاصل کرو تب نماز پڑھنے کو کہہ سکتے ہیں۔سوالات: الف: قرآن شریف و حدیث شریف کی آیتوں کو بھاشن بتانا ؟ ب قرآن شریف وحدیث شریف کے بیان کو روک کر یہ کہنا کہ خاموش ہو جاو چیں چیں مت کرو۔ ج دینیات حاصل کرنا نماز کے بتانے کے لئے سارٹیفکٹ حاصل کرنا کیا ضروری ہے اور کیا
ایسے لوگوں پر شریعت مطہرہ کی پابندی عائد ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ جواب سے مطلع کرنے کی مہربانی کریں گے اللہ جزائے خیر عطا فرمائے آمین۔ الجواب: المستفتی: قاضی رحمت الله وہ شخص جس نے دینی باتوں کو بھاشن کہا اور اسے چیں چیں سے تعبیر کیا گنہ گار، حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہوا۔ اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله