حروف مقطعات اور کلام باری تعالیٰ کے متعلق گستاخانہ تشبیہ کا شرعی حکم
۵ رصفر المظفر ۱۴۰۵ھ حروف مقطعات اور آیات محکمات و متشابہات کی نفیس بحث ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: خالد نے یوں کلام باری تعالیٰ کے بارے میں کہا کہ جب قرآن کے حروف مقطعات صوفیائے کرام مخصوص کر لئے تو عوام الناس باقی کلام کو جو پڑھتے ہیں تو گویا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کتوں کے سامنے ہڈی پھینکا جائے اور وہ اس پر چمٹ کر آپس میں لڑنے لگے تو ایسے کہنے والوں کے لئے از روئے شریعت کیا حکم ارشاد گرامی ہوگا ۔ جواب سے سرفراز فرمادیں۔ المستفتی: محمد عزرائیل انصاری مدرسہ جامعہ خوشید رضوی راج گنج، بانی پوری ہوڑہ
الجواب: وط خالد کا زعم فاسد ہے اور جس بات پر اس نے اپنے زعم کی بنارکھی وہ خود فاسد ہے وہ متشابہات کو جن میں حروف مقطعات بھی شامل ہیں اصل قرآن سمجھ رہا ہے جبھی تو اس نے یہ کہا کہ عوام الناس جو باقی کلام کو پڑھتے ہیں اور بے چارہ خود قرآن عظیم کے اس ارشاد واجب الاتقیاء سے بے خبر ہے جو آیات محکمات کو ام الکتاب فرمارہا ہے اور محکمات کو مدار کار بتا رہا ہے اور متشابہات کا مرجع انہیں محکمات کو ٹھہرا رہا ہے۔ قرآن عظیم کا ارشاد ہے: هُوَ الَّذِي انْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ ايْتَ تُحْكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَأَخَرُ مُتَشَبِهنَّ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَةَ إِلَّا اللهُ وَالرَّسِحُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ امَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَ مَا يَذَّكَّرُ الا أُولُوا الأَلْبَابِ (()) یعنی وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے وہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلوڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے۔ سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔ مذکورہ فرمان قرآن سے ظاہر ہے۔ وہ صاف صاف محکمات کو اصل کتاب ٹھہرا رہا ہے ۔ تو محکمات قرآن عظیم پر وہ مثال دینا قرآن عظیم کی آیت گذشتہ کی تکذیب و مخالفت ہے اور یہ کفر ہے خالد پر اس سے تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی ضرور۔ اور اس کا یہ کہنا کہ صوفیائے کرام جب قرآن کے حروف مقطعات مخصوص کر لئے ، متشابہات کے بارے میں مذہب معتمد سلف صالحین سے بے خبری اور حروف مقطعات میں علماء کے کلام سے یکسر نا واقفی ہے سلف صالحین کا مذہب جو اکثر علمائے امت کا معتمد ہے وہ یہی ہے کہ متشابہ کی مراد قطعی اللہ ہی کو معلوم (1) سورة ال عمران:۷ ہے اسی لئے امام سیوطی علیہ الرحمہ وامام جلال الدین محلی علیہ الرحمہ و دیگر مفسرین حروف مقطعات کے تحت لکھتے ہیں : اللہ اعلم بمراده بذلک (۱) ،، یعنی اللہ ہی اپنی مراد ان حروف سے جانے اور اسی لئے ہمارے ائمہ اعلام و ما يعلم تاويله الا پر وقف فرماتے ہیں اور یہی مذہب صحابہ کرام میں ابن عباس و ابن مسعود وابی بن کعب کا ہے اور ابی بن کعب کی مصحف میں ہے: ،، وما يعلم تاويله الا الله ويقول الراسخون فی العلم آمنا به (۲) اور ایسا ہی عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے طاؤس سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا اور مصحف ابن مسعود میں یوں تھا: ،، ان تاويله الا عند الله (۳) اصول الدین امام استاذ ابومنصور عبد القاہر بن طاہر تمیمی بغدادی علیہ الرحمہ میں ہے: ’واختلف اصحابنا فی ادراک علم تاويل الآيات المتشابهة، فذهب الحارث المحاسبى وعبد الله بن سعيد وابو العباس القلانسى الى ان المتشابه هو الذي لا يعلم تاويله الا الله وقالوا: منها حروف الهجاء فى اوائل السور وهذا قول مالك والشافعی و اکثر الائمة ومن قال بهذا وقف على قوله وما يعلم تاويله الا الله ثم ابتدأ من قوله: والراسخون في العلم يقولون: آمنا به کل من عند ربنا ۔۔۔۔۔۔ وبه قال: ابن عباس وابن مسعود و ابی بن کعب وفي مصحف ابى وما يعلم تاويله الا الله ويقول الراسخون في العلم آمنا به وکذلک روی عبد الرزاق عن معمر عن طاؤس عن ابن عباس وفي مصحف ابن مسعود ابتغاء الفتنة وابتغاء تاويله وان تاويله الا عند الله ثم قال: والراسخون فی العلم برفع (۱) الفتوحات الالهية بتوضيح تفسير الجلالين للدقائق الخفية سورة البقرة ج ۱، ص ۱۵، مطبع دار الكتب العلمية بيروت (۲) مختصر تفسير البغوى، ايت قول الله تعالى الم الله لا اله ، مطبع دار السلام للنشر والتوزيع الرياض (۳) مختصر تفسير البغوى سورة ال عمران، ايت - ۶ ، ص ۱۹۰ ، مطبع دار ابن حزم للنشر والتوزيع بيروت الراسخين دون کسره و کل ذلک تاکیدللوقف الذي اخبرناه_الخ ) منار امام علامہ عبداللہ بن احمد حافظ الدین نسفی و شرح منار امام علامہ زبین بن نجیم میں ہے: {واما المتشابه فهو اسم لما انقطع رجاء معرفة المراد منه} أي في الدنيا كالصفات فى نحو اليد والعين والافعال كالنزول-- ولا نزاع في عدم امتناع الخطاب بما لا يفهمم ابتلاء للراسخين بايجاب اعتقاد الحقية وترك الطلب تسليما وعجزا، بل النزاع فى وقوعه - فالحنفية نعم لقوله تعالى وما يعلم تاويله الا الله وحكمه اعتقاد الحقية قبل يوم الاصابة } أى القيامة . ،، کالمقطعات في اوائل السور } مثل الم (۲) وهذا بالجملہ محکمات ہی اصل و مغز قرآن ہیں اور متشابہات میں مذہب معتمد جماہیر امت اعتقاد حقیت و ترک تاویل ہے اور بعض علماء کے نزدیک متشابہ کی دو قسم ہے ایک وہ جسے محکم کی طرف پھیرنے سے اس کی مرادظاہر ہو جائے اور ایک وہ جس کی معرفت کی طرف کوئی راہ نہیں۔ نہا یہ ابن الاثیر و در نتیر سیوطی میں ہے: المتشابه مالم يتلق معناه من لفظه وهو على ضربين احدهما اذارد الى المحكم عرف معناه والآخر ما لاسبيل الى معرفة حقيقته (۳) اس تقسیم کا بھی حاصل وہی کہ محکمات متشابہات کی اصل و مرجع ہیں اور حروف مقطعات بلا شبہ دوسری قسم میں داخل یعنی جن کے معنی قطعی کی معرفت کی راہ نہیں کہ یہاں محکم کی طرف پھیر نا متصور ہی نہیں کہ اصلا ان حروف کے مقابل محکم ہی نہیں تو خالد کا یہ کہنا کہ صوفیائے کرام مخصوص کر لئے غلط و مہمل ہے بلکہ افتراء ہے کہ حروف مقطعات کی یقینی مراد سوائے خدا ورسول کے کسی کو معلوم ہی نہیں اور اعتقاد حقیت و تسلیم سب کو لازم تو دعوئی خصوص باطل اور اس وہم عاطل کا منشاء غالبا حضرت مولوی مثنوی کے شعر: "ماز قرآن مغز را بر داشتیم [ مثنوی مولائے روم) کو اپنی اپنی لٹھ مجھ سے الٹا سمجھنا ہے۔ وہ مغز قرآن محکمات کو فرمارہے ہیں نہ کہ برخلاف قرآن بزعم خالد متشابہات کو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۲ شوال المکرم ۱۴۰۰ھ دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف