بسم اللہ الرحمن الرحیم کو غلط کہنا اور اس سے قبل اشرع کہنے کے متعلق سوال و جواب
زید کہتا ہے عام طور پر بسم اللہ الرحمن پڑھی جاتی ہے، وہ غلط ہے اور وہ اس کے ثبوت میں یہ کہتا ہے کہ جب بسم اللہ کے معنی کرتے ہیں تو اس طرح کرتے ہیں شروع کرتا ہوں میں ساتھ نام اللہ کے ایسا اللہ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حالانکہ بسم اللہ کے معنی میں شروع کا لفظ اور شروع کا معنی کہاں سے نکلا؟ زید کا کہنا ہے کہ بسم اللہ سے پیشتر لفظ اشر یا اشرع" کہنا چاہئے جو صیغہ واحد متکلم کا ہے لہذا اب غور طلب یہ امر ہے کہ کیا بسم اللہ جو عام طور پر پڑھی جاتی ہے یہ بیج ہے یاوہ صحیح ہے جو اشرع سے شروع ہوتی ہے یعنی اشرع بسم الله الرحمن الرحیم اور یہ فرمائیں کہ لفظ اشر و یا اشرع کیا مقدر ہے۔
الجواب: زید کا کہنا غلط و باطل بلکہ نہایت سخت ہے کہ وہ بسم اللہ شریف جو قرآن کی آیت ہے اسے غلط بتاتا ہے اپنی عربی دانی جتاتا ہے اور کہتا ہے کہ اشرع بسم اللہ پڑھنا چاہیے یہ اور زیادہ سخت کہ قرآن عظیم میں معاذ اللہ اضافہ کا قول کرنا ہے، نادان سے کہو کہ عربی میں کبھی فعل محذوف ہوتا ہے وہاں ابدء یا اشرع محذوف ہے۔ زید پر اپنی اس خرافات سے تو بہ و تجدید ایمان لازم ہے بلکہ بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله