نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور اور خواب میں خلافت ملنے کا شرعی حکم
(۱) زید کہتا ہے کہ اگر نماز میں بالقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی ،مگر تشہد اور درود میں خیال لانا ضروری ہے، اب جو شرع کا حکم ہے، صادر فرما ئیں ۔ (۲) زید کہتا ہے کہ اس کو اس کے مرحوم پیر نے خواب میں خلافت کی بشارت دی ہے، کیا یہ شخص مذکور دوسرے کو بیعت کر سکتا ہے؟ اور خلافت بھی دے سکتا ہے؟ فقط ۔ المستفتی: عزیز الرحمن نقشبندی
الجواب: (1) یہ خیال خام وہابیہ کا ہے ، حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال سے فساد نماز کو کیا علاقہ؟ حاشا وکلا یہ شرع پر بہتان ہے۔ التحیات میں ”السلام علیک ایہا النبی“ پڑھنے کا حکم حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے تصور کے جواز کی کافی دلیل ہے اور زید کو اس جگہ خیال لانے کے لزوم کا اعتراف بھی ہے تو اور جگہ میں فساد کس دلیل سے آیا ؟ ہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ التحیات کے سوا دوسری جگہ تصور کا حل نہیں مگر تصور حضور سے فساد نماز کا خیال محض جنون و گمراہی ہے ، جس سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) محض خواب میں خلافت دیتے ہوئے پیر کو دیکھنا ، خلافت و اجازت کے لئے کافی نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۱ / جمادی الاولی ۱۳۹۸ھ صح الجواب۔ خواب سے خلافت ثابت نہیں ہوگی۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی