حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے ایمان اور نعت کے اشعار کا شرعی حکم
بوقت شفاعت محمد کے حق سے کہ پیارے ہو میرے جہاں سے نرالے بس ان دونوں میں ایک کو بخشوالے تو یا اپنے ماں باپ یا اپنی امت کہا میرے مولیٰ نے روکر خدا سے بڑی عزت و عظمت و شان والے - - تری راہ میں اپنے ماں باپ چھوڑے ولے نار سے میری امت بچالے کہ پیارے جسے چاہے تو بخشوالے کہا جوش میں آکے بحر کرم نے - خدا کہہ رہا ہے یہ مجھ سے اے اکبر یہ گلزار جنت ہے میرے حوالے عرض یہ ہے کہ یہ نعت شریف کہ جس میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین کی بخشش کروانے کا ذکر ہے اور اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ وہ ایمان والے جنتی ہیں ۔اس نعت کے دو اشعار سے دیو بندی لوگ غلط مطلب نکال سکتے ہیں لہذا آپ ہمیں اس کا جواب دیں۔ کہ اس کا پڑھنا جائز ہے یا ناجائز ۔ فقط والسلام، خدا حافظ!
الجواب: المستلنتی : حافظا ولی محمد، ناگورینی را جستهان اشعار مذکورہ درست ہیں لیکن اس شعر کا مضمون جس میں شاعر نے کہا: ” تو یا اپنے ماں باپ یا اپنی امت ۔ الخ ، نظر سے نہ گزرا، اور صحیح یہ ہے کہ ابوین کریمین حضور سرور عالم کو خدا نے زندہ فرمایا اور وہ ، پر ایمان لائے تو ان کے لیے بھی مغفرت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ ۱۸/ جمادی الآخر ۱۴۹۸ھ