درود شریف کا اختصار کرنا یا صلعم لکھنا کیسا ہے؟
سوال
۱ من شهر رمضان ۵۱۴۰۹ درود شریف کا اختصار جائز نہیں ہیں یا صلحم لکھنا نا جائز ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں : اسم مبارک صرف محمد لکھنے سے صحیح ہو جائے گا یا نہیں اور یا اس کے اوپر ایسا بنادیا جائے تو کیا مسئلہ حل ہو جائے گا یا نہیں تو اس کے بارے میں پوری توضیح و تشریح کے ساتھ نقل فرمائیں نوازش ہوگی! المستفتی محمد عثمان/ مؤرخہ ۲۶ ستمبر ۱۹۷۷ء
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: درود شریف کا ایسا اختصار حرام اور باعث محرومی ہے۔ بلکہ علامہ طحطاوی قدس سرہ نے اسے کفر فر ما یا اور اختصار بنیت استخفاف ہو تو علامت مذکور کا یہ حکم ظاہر ہے۔ اور وہی اس کا عمل ہے۔ لہذا اس سے شدید احتر از چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۱ رشوال المکرم ۱۳۹۷ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۶۸–۳۶۹
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
اذان سے قبل حضور ﷺ پر صلاۃ و سلام پڑھنے کی شرعیت
باب: کتاب العقائد
غیر نبی مثل نبی نہیں ہو سکتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو باپ کہنے کا حکم
باب: کتاب العقائد
وہابیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
ایک نعت پاک کی تصدیق و تصحیح
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کریمین کے مومن ہونے کا بیان
باب: کتاب العقائد