غیر نبی مثل نبی نہیں ہو سکتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو باپ کہنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک شخص جو عالم میں مشہور ہے اس سے بشریت کے مسئلہ پر گفتگو چلی ۔ بھائی کے برابر والی بات کا اس خبیث سے جب کوئی جواب نہ بن پڑا۔ تو لکھتا ہے کہ نبی ہمارے لیے مثل والد ہوئے ۔ ارشاد ہو کہ کیا اب بھی وہی خباثت نہیں بول رہی ہے؟ ۔ ہمارے علمائے کرام فرماتے ہیں : مثل کا مطلب بالکل برابراب خواہ جس نیت سے کہے مگرشان اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے باپ کے برابر نعوذ باللہ کرنے کی جرات تو کی ۔ باپ تو دادا کا بیٹا اور پھوپھا کا سالہ ہوتا ہے۔ یہ مثال کس قدر ایمان سوز ہے سوال یہ ہے کہ چاہے باعتبار مسئلہ اس کا جو بھی حکم ہو آخر پیغمبر علیہ السلام کے ساتھ رشتہ داری کے الفاظ کیوں نکالے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ زید باوجود ان خبیث اقوال کے اپنی وہابیت کا منکر ہے۔ بہر حال اس کے متعلق شرع شریف کے حکم سے آگاہی فرمائیں۔ بینوا توجروا۔ فقط والسلام مع الاحترام
الجواب: فی الواقع مثل والد کہنا مماثلت میں صریح اور مساوات کا موہم ہے اور غیر نبی مثل نہیں ہو سکتا اور ایسے لفظ سے احتراز لازم تر شخص مذکور اگر وہابی ہے تو اس سے کیا اچمھا ان کے نزدیک تو انبیائے کرام بڑے بھائی بلکہ انہیں جیسے بشر قرار پاتے ہیں۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ پھر یہ کہ پیغمبر آخر الزماں علیہ السلام سے ہمیں بلکہ سارے انسانوں کو بلکہ تمام جہانوں کو وہی رشتہ و نسبت ہے جو اصل سے فرع کو اور باپ کو بیٹے سے ہوتی ہے۔ کہ سب کی اصل حضور علیہ السلام اور سب فرع سید الا نام علیہ السلام ہیں۔ اسی سبب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی ابوالمؤمنین ہے کمافی المفردات۔ اور تنزیل کی قرآت شاذہ میں ہے: وهواب لهم (1) اور مواہب لدنیہ میں فرمایا: فهو صلى الله تعالى عليه وسلم الجنس العالى على جميع الاجناس والاب ،، الاكبر بجميع الموجودات والناس (۲) لہذا بایں معنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو باپ کہنا مضائقہ نہیں رکھتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ