قرآن شریف پھینکنے پر سخت حکم اور تجدید ایمان کا مطالبہ
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص جس کا نام رئیس احمد ہے اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیا اور جہیز کا سامان بھی گھر سے باہر پھینک دیا اور ساتھ میں قرآن پاک کو بھی پھینک دیا یہ کہ کر کہ لو یہ تحفہ بھی گھر لے جاؤ ایسے شخص کو کیا سمجھنا چاہیے؟ اور اس کے ساتھ محلہ بستی والوں کو کیسا سلوک کرنا چاہیئے ؟ مہربانی کر کے قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت سے جواب دینے کی زحمت گوارہ کریں عین نوازش ہوگی۔ المستفتی : اسرائیل و نصیر احمد ، موضع بنجر یا جا گیر ضلع بریلی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے کہ اس شخص نے قرآن کریم پھینکا ہے تو اس پر تو بہ و تجدید ایمان لازم ہے جب تک تو بہ و تجدید ایمان نہ کرے مسلمان اس سے قطع تعلق رکھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۸ / رمضان المبارک ۱۴۰۶ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۷۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بسم اللہ الرحمن الرحیم کو غلط کہنا اور اس سے قبل اشرع کہنے کے متعلق سوال و جواب
باب: کتاب العقائد
قرآن شریف پھینکنے پر سخت حکم ہے!
باب: کتاب العقائد
نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور اور خواب میں خلافت ملنے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
حروف مقطعات اور کلام باری تعالیٰ کے متعلق گستاخانہ تشبیہ کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے ایمان اور نعت کے اشعار کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد