آیت کریمہ قل انما انا بشر مثلکم کی غلط تفسیر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کا ہم جنس بتانے کا رد
آیت قُل إنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کی نفیس تغییر ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص جو عالم مشہور ہے آیت کریمہ {قُلْ إِنما انا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ } کا مطلب بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ : ”لہذا فر مایا گیا ہے کہ اسے کفار تم مجھ سے گھبراؤ نہیں میں تمہاری جنس سے ہوں“۔ خدا کی پناہ! نور النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح اس خبیث و مردود نے کفار کا ہم جنس قرار دے دیا۔ کیا یہ بارگا ہر سالت پناہ میں کھلی ہوئی گستاخی نہیں ہے؟ اور یہ فرما یا جائے کہ اس شخص نے جو قول زبان پاک کی طرف منسوب کیا ہے وہ کہاں ہے؟ اگر واقعی ہے تو اس کا واضح اور صحیح مطلب بتایا جائے ۔ اور اگر نہیں ہے تو کیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھ کر اپنا ٹھکانا جہنم میں نہیں بنایا؟ شرع مطہر کا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ فقط ۔ والسلام مع الاحترام
الجواب: احسان الرحمن عزیزی آیت کریمہ متشابہات سے ہے۔ شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اسے متشابہات سے شار فرمایا اور اسے متشابہ شمار کرنے کی وجہ ظاہر ہے اور وہ یہ کہ حضور علیہ السلام کسی کے مثل نہیں ۔ اتنا ایمان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں مگر کوئی بشر مماثل آنجناب نہیں ۔ تو مثلکم‘ کا ظاہری معنی مراد نہیں بلکہ آیت کریمہ تواضع و انکساری و دفع وحشت پر محمول ہے اور جنس بشر سے ہونا صریح مفاد آیت اور اس سے یہی مقصود کہ کفار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ گھبرائیں بلکہ اخذ فیض کے لئے قریب آئیں لہذا قائل نے اگر بطور تفسیر مذکورہ جملہ استعمال کیا تو اس پر الزام نہیں اور اگر معاذ اللہ حسب عادت وہابیہ اس آیت کریمہ سے مماثلت پر دلیل لانا مقصود تو قائل اس ادعائے مماثلت سے ضرور بدعقیدہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱ / جمادی الآخره ۱۴۰۰ھ