قرآن وحدیث کی اہانت و مضحکہ کفر ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (۱) ہمارے یہاں قصبہ گھائم پور میں ایک نوجوان مسلم جو کہ قرآن وحدیث سے اچھی واقفیت رکھتا ہے اور شاعر بھی ہے۔ دوران گفتگو برجستہ کہتا ہے کہ ” مجھے تو تلاوت قرآن سے کوئی فیض نہیں ہے اگر ہوگا تو آپ کو یا کسی اور کو ہو گا“۔ (۲) ایک شخص زید نماز سے فارغ ہو کر آرہا تھا کہ موصوف کی اس سے ملاقات ہوتی ہے،سلام ودعا
کے بعد وہ شخص پوچھتا ہے کہ کہاں سے آرہے ہو؟ زید بتلاتا ہے کہ نماز کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا، تلاوت سے طبیعت کو سکون ملتا ہے۔ اس پر وہ شخص کہتا ہے کہ ” تلاوت ! ارے کیسا سکون، تلاوت قرآن سے کہیں طبیعت کو سکون ملتا ہے؟ نہ معنی سمجھو نہ مطلب اور نہ مفہوم اور تلاوت تلاوت رہتے رہو ۔ فقط والسلام علیکم ! الجواب: اس شخص کے دونوں جملے تلاوت قرآن کی اہانت اور مضحکہ میں صریح ہیں وہ ان جملوں کے سبب اسلام سے خارج ہو گیا تو بہ وتجدید ایمان کرے پھر سے مسلمان ہو اور شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی ضرور کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله