قرآن مجید کی اہانت اور اسے زمین پر رکھنے کا واقعہ
۲ رصفر المظفر ۱۳۹۹ھ قرآن کی اہانت کفر ہے! جناب قبلہ محترم مفتی صاحب! السلام علیکم! خاکسار امام جامع مسجد حضرت سے اس بات کا فتویٰ چاہتا ہے جو گزشتہ ہفتہ ہماری جامع مسجد میں ایک جگر پارہ پارہ کر دینے والا واقعہ گزرا۔ حالات اس طرح ہیں کہ ظہر کی نماز کے بعد کچھ مقتدی آپس میں مدرسہ اور بچوں کی بابت بات چیت کر رہے تھے۔ اقتدا میں ایک مقتدی زید اور ان کے مرشد صاحب بھی شامل تھے۔ جو ہم مقیم مقتدیوں میں سے ہیں۔ نماز کے بعد زید کے پیر نے کہا کہ زید (یونانی حکیم کمپاؤنڈ ) کیسی دوا دیتے ہو کہ میرا زخم ٹھیک نہیں ہوتا ؟ قریب ہی کھڑے ایک مقتدی نے کہا کہ تمہارا عقیدہ اور عمل ٹھیک نہیں ہے اس لئے زخم نہیں اچھا ہوتا۔ تو مرشد صاحب نے کہا کہ کیا میرا عقیدہ دیکھے گا اور غصہ کی حالت میں طاق سے قرآن اٹھا لائے اور زید کے قریب قرآن کو نعوذ باللہ زمین پر رکھ کر اس
پر زور سے پیر رکھ دیا۔ بعد ازیں اپنے کچھے سے باندھ کر کہتے ہیں دیکھ میرا عقیدہ یہ ہے۔ زید قریب بیٹھے یہ تماشا دیکھ رہے تھے ان کے دل میں اس کا کچھ احساس نہ ہوا اتنے میں جو مقتدی کھڑے بات چیت کر رہے تھے دوڑے اور اس سے قرآن پاک کو چھڑا کر بوسہ دے کر سابق جگہ پر رکھ دیا۔ ایک مقتدی نے مرشد صاحب کے چار پانچ ہاتھ مار کر مسجد سے باہر نکال دیا۔ عصر کے وقت خاکسار جب سفر سے واپس آیا تو مقتدیوں نے یہ واقعہ بتایا۔ یہ خبر سن کر خاکسار کو بہت روحانی تکلیف ہوئی ایمان کے تحت خاکسار نے زید اور اس کے پیر کو مسجد سے منع کر دیا کہ جب تک میں فتویٰ نہ منگالوں تب تک تم مسجد میں نہ آنا خاکسار آپ سے فتویٰ طلب کر رہا ہے کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق ؟ اور شرعی قانون سے زید کے پیر پر کیا حکم عائد ہوتا ہے اور کس طرح اس کی اصلاح ہو۔ برعکس خاکسار پر کیا جرم اور کفارہ عائد ہوتا۔ المستفتی: حکیم محبوب عالم، جوا بازار ضلع الہ آباد الجواب: یہ واقعہ ہے جو درج سوال ہوا تو حکم یہ ہے کہ زید کا نام نہاد پیر اس حرکت ملعون کے سبب جو اس نے قرآن عظیم کے ساتھ کی ، اسلام سے خارج ہو گیا جب تک کلمہ پڑھ کر از سر نو مسلمان نہ ہو، زید اور ہر واقف حال پر لازم ہے کہ اسے کا فرجانے اور اسے مسجد سے باز رکھیں اور اس سے میل جول موقوف کر دیں۔ زید اگر اسے ہنوز مرشد سمجھتا ہو تو یہی حکم زید کا بھی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۱؍ ربیع الآخر ۱۴۰۶ھ