بلا وجہ شرعی جھگڑ احرام اور عہد شکنی گناہ کبیرہ ہے!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید بکر دو بھائیوں میں دنیاوی کھانے پینے کو لے کر جمع ہو کر فیصلہ کرا دیا اور اقسم ہو گئی کہ ہم دونوں خد اورسول کے درمیان قسم کھاتے ہیں کہ ہم دونوں ایک ہیں اور گلے مل لیے۔اب کچھ دنوں بعد بکر یعنی چھوٹے بھائی نے یہ محاورہ توڑ دیا کہ میں نہیں مانوں گا یہ کہ کر الگ ہو گیا۔ اس مسئلہ میں علمائے دین کا کیا فیصلہ ہے کہ وہ مجرم ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ برادر اس کے ساتھ کیا برتاؤ کرے؟ مطلع فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط والسلام المستفتی: نیازمند عبدالرحمن جگت ، ڈاکخانہ خاص ،ضلع بدایوں
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
بلا وجہ شرعی جھگڑا حرام اور عبد شکنی گناہ کبیرہ ہے۔ اس پر تو بہ لازم ہے، اگر تو بہ نہ کرے تو لوگ اسے چھوڑ دیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۰ · صفحہ ۲۴۱
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
جھوٹا الزام لگا نا سخت گناه اشد کبیرہ عظیم جرم ہے، شرعاً جرمانہ ممنوع ہے!
باب: کتاب الحظر والاباحۃ
جاندار کی تصویر بنانے اور شائع کرنے کی حرمت اور ایڈیٹر کا حکم
باب: کتاب الحظر والاباحۃ
متفرق مسائل: مساجد میں ذکر بالجہر، عورتوں کی نماز، جمعہ کی صف بندی، اور مطلقہ کے نکاح کے احکام
باب: کتاب الحظر والاباحۃ
منکوحہ غیر سے نکاح کا حکم، ایصالِ ثواب اور دیگر مسائل
باب: کتاب الحظر والاباحۃ
میلاد شریف میں قیام و سلام کی وجہ اور اس کی شرعی حیثیت
باب: کتاب الحظر والاباحۃ