متفرق مسائل: مساجد میں ذکر بالجہر، عورتوں کی نماز، جمعہ کی صف بندی، اور مطلقہ کے نکاح کے احکام
(۵) کیا بعد نماز مساجد میں زور سے ذکر کرنا یعنی کلمات پڑھنا جائز ہے کئی مساجد میں اس قدر نمازی بھی ہوتے ہیں جو بعد نماز تسبیح پڑھتے ہیں؟ (4) کیا مستورات کو بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے یا استادہ اور عورت عورتوں کی امامت کراسکتی ہے؟ (۷) جمعہ کی نماز میں کیا پہلے ہی سے صف بندی سنت ہے یا تکبیر کہنے والے کے حی علی الفلاح کہنے پر نمازی کھڑے ہو کر صف بندی کریں۔ برائے مہربانی مندرجہ بالا سوالات کا مفصل جواب مع شرعی حوالہ جات مرحمت فرمائیں۔ مذکورہ سوالات کے بارے میں اور بھی چند اداروں سے رجوع کیا گیا۔ والسلام حافظ خورشید احمد خطیب جامع مسجد و غلام قا در جنرل سکریٹری دینی کمیٹی ، چاتر و، جموں کشمیر
الجواب: (۱) فی الواقع اگر عورت مذکورہ کو اس کے شوہر نے طلاق دیدی تو بعد انقضائے عدت وہ محمد رمضان سے بشرط عدم مانع نکاح کر سکتی ہے عدت کے اندر نکاح کرنا حلال نہیں بلکہ صراحۃ پیغام نکاح بلکہ عزم نکاح بھی جائز نہیں۔ قال تعالیٰ: { وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَبُ أَجَلَهُ الآية } (۱) مگر یہ مجھ میں نہیں آتا کہ طلاق حاصل ہو جانے کے بعد قانونی اجازت حاصل کرنے کی کیا ضرورت رہ گئی تھی اگر فی الواقع شوہر نے طلاق نہیں دی ہے تو وہ نام کی اجازت ہرگز کام نہ آئیگی کہ طلاق کا حق شوہر کو ہے اور یہ آزادی کچھ نہیں۔ قال تعالیٰ: { بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ - الآية } (۲) اور حدیث میں فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : الطلاق لمن اخذ بالساق (۳) (۱) سورة البقرة: ۲۳۵ (۲) سورة البقرة : ۲۳۷ (۳) سنن ابن ماجه ، ابواب الطلاق، ص ۱۵۱ ، مکتبه تهانوی اور اسے ہرگز نہ جائز ہوگا کہ وہ دوسرے سے بے طلاق نکاح کرلے۔ پھر اگر وہ طلاق دے چکا تھا تو عدت شوہر کے گھر گزار نالازم تھا۔ شوہر کے گھر عدت نہ گزار کر غیر مرد کے ساتھ رہ کر عدت گزار نے سے دونوں گنہ گار ہوئے۔ توبہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) عام اموات کا کھانا فقیر کھائے مالدار کو کھانا بہتر نہیں اور اگر کھائے تو گناہ بھی نہیں کہ میت کا کھانا صدقہ نافلہ ہے اور صدقہ نافلہ غنی بھی لے سکتا ہے لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لها صدقة ولنا هدية (1) اور اولیاء کی نیاز سب کو کھانا جائز اور باعث برکت ہے اور اموات کے کھانے کے لئے دعوت دینا منع ہے جب بھی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) صورت مسئولہ میں جب اس نابالغہ کا نکاح اس کے چچانے اس کے والد کی موجودگی میں بغیر اس کی اجازت کے پڑھایا تو نکاح اولا والد کی اجازت پر موقوف ہوا جب کہ اس نے اجازت نہ دی تو اب بعد بلوغ اس لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوا اس نے اجازت دی تو جائز ہے ورنہ رد ہو گیا اور لڑ کی اب مختار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) عورت اگر صحیح طور پر ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ حلال ہے اور ذبح میں گلے کی تین رگوں کا کم از کم مکمل طور پر کٹ جانا ضروری ہے وہ رگیں کٹ گئیں ذبح درست ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۵) جائز ہے جبکہ نمازیوں کو یا قرآن خواں یا سوتے ہوئے کو تشویش نہ ہو۔ کمافی درالمختار (1) اللہ تعالی اعلم (1) دونوں صورتیں جائز ہیں اور عورتوں کی جماعت مکروہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (2) حی علی الفلاح پر کھڑے ہو کر صف بندی کریں کہ یہی سنت ہے اور پہلے سے کھڑے رہنا مکروہ ہے۔ درمختار میں ہے: وو و القيام لامام ومؤتم حین قیل حی علی الفلاح (۳) مگر جمعہ میں امام کا استثناء ہے کہ کھڑا رہے یا بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہو۔ کذافی الفتاوی الرضویہ () واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله العطايا النبوية في الفتاوى الرضوية، كتاب الصلوة باب الاذان والاقامة، ج ۴، ص ۴۱۹، رضا اکادمی