نصاب زکاۃ کی مخصوص رقم (1200 یا 800) پر زکاۃ کا حکم
(۱۰) میرے پاس صرف زکاۃ دے کر رمضان کی عید کی ذاتی رقم صرف ایک ہزار دوسوروپے کی جو آمدنی ہوتی ہے، خرچ ہو جاتی ہے۔ اگر اگلے سال میرے پاس کل رقم ایک ہزار دوسو باقی رہ جائے تو مجھے اگلے سال کی زکاۃ دینا واجب ہوگی اور اگر آٹھ سورہ جائے تو کتنی دینا ہے؟ فقط والسلام
الجواب: المستفتی: عبدالجبار ہاشمی گوٹیا، قصبہ رچھا ضلع بریلی (1) جنت وغیرہ کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، ایک جماعت علماء نے فرمایا کہ وہ بیشگی کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ فنانہ ہوگی اور دوسری جماعت فرماتی ہے کہ ہر شے حتی کہ جنت د عرش و کرسی ولوح وغیرہ سب ایک لمحہ کے لئے فنا ہو جائیں گے۔ اور یہی قول مختار ہے، بہار شریعت جلد اول کا مطالعہ کیجئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فرضی قبریں بنوانا اور ان کی زیارت اور وہاں عرس کرنا حرام ہے اور قوالی مع مزامیر محرمہ کے کہ سب جگہ حرام ہے یہاں اور زیادہ حرام ہے، ایسے افعال کے مرتکب لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنا گناہ ہے اور جو نمازیں ان کے پیچھے پڑھی ہوں، ان کا اعادہ واجب ہے۔ قبروں کے پائنتی سے آکر قبلہ کی طرف پشت کر کے کھڑا ہو اور قبرستان میں جب داخل ہو ” السلام علیکم دار قوم مومنین و انا انشاء الله لكم لاحقون) پڑھے۔ پھر اموات کے لئے قرآن کی آیات پڑھ کر ان کے لئے دعا مانگے اور اس جگہ کوئی اللہ کا ولی ہو تو اس سے دعا کے لئے عرض کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) قبروں پر مٹی کی ضرورت ہو تو حرج نہیں ورنہ ایک فعل عبث ہے جس سے احتراز چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جائز ہے جبکہ اسے کاغذ کی قیمت سمجھے مگر اسے ذریعہ نہیں بنانا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۵) کعبہ معظمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا بہ نص قرآنی پہلا عبادت خانہ ہے۔ إن أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكة ميركا - الآية (٢) اور یہ بات ہر خاص و عام مسلمانوں ہی میں نہیں بلکہ غیر مسلموں کو بھی معلوم ہے۔ اس کا انکار قرآن عظیم کا انکار اور مسئلہ ضرور یہ دینیہ کا انکار ہے جو کفر ہے۔ شمع نیازی ایسی ہی واہیات لکھتا ہے، اس کی باتوں پر کان دھرنا جائز نہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کی قبر انور کے علاوہ کسی نبی کی قبر پاک کی تعیین جائز نہیں۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس بقعہ میں انبیائے کرام کے مزارات ہیں جو بے علم تعین قبر کر رہا ہے وہ خاطی و گنہ گار ہے۔ قال تعالى: وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أوليك كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (1) کھیتی کی آبیاری ڈول چر سے وغیرہ سے جس میں اپنا خرچ ہوتا ہو، کی ہو تو ۲۰ / واں حصہ ہے اور اگر بارش کے پانی سے کی ہو تو ۱۰ رواں حصہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ کھیتی کا خرچ بھی محسوب نہ ہوگا جو پیداوار ہو اس پر عشر یا نصف نکالا جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) یہ وہابیہ دیابنہ کا وسوسہ ہے۔ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت فاضل بریلوی قدس سرہ کو اُن کے ہم عصر علمائے کرام نے اعلیٰ حضرت فرمایا۔ بایں معنی کہ آپ اپنے زمانے کے علماء میں بڑے عالم تھے ۔اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہ و تابعین پر فضیلت کب لا زم آئی ؟ اور یہ لقب کوئی نیا نہیں کہ صرف اعلیٰ حضرت کو کہا گیا ہو۔ وہابیہ دیابنہ کے پیرومرشد حضرت امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کو بھی کہا گیا تو جو اعتراض ہم اہل سنت پر کرتے ہیں وہی اعتراض ان پر وارد ہوتا ہے اور جو ان کا جواب ہے وہی اہل سنت کا جواب ہے حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی کے پیر اعلیٰ حضرت آفاق شاہ قدس سرہ کو بھی اعلیٰ حضرت کہتے ہیں۔ نواب حیدر آباد دکن کو بھی اعلیٰ حضرت کہا جاتا تھا۔ مقصد یہی ہوتا ہے کہ اپنے زمانہ میں جو افضل ہو، اسی کے اعتبار سے اعلیٰ حضرت ہیں۔ وہابیہ جو لفظ رحمۃ للعلمین کے لقب کو حضور سیدالانبیاء علیہ التحیۃ والثناء کے لئے خاص نہیں مانتے وہ لفظ اعلیٰ حضرت پر کیسے اعتراض کر سکتے ہیں؟ ہاں فریب دیں تو اور بات ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) مکہ معظمہ کو شریف کہتے ہیں اس لئے کہ متعدد علماء اور اولیاء کرام وصحابہ عظام کا وہاں مدفن ہے اس کے علاوہ دیگر آثار شریفہ ہیں۔ اسی لئے مدینہ کو شریف کہتے ہیں کہ وہاں حضور علیہ السلام کی مسجد اور حضور کا روضہ اور صحابہ کرام کے مزارات ہیں۔ دیگر مقامات کو بھی اولیائے کرام سے نسبت کی وجہ سے شریف کہا جاتا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں جو عظمت دینی رکھتے ہوں جن کو مولیٰ عزوجل سے کچھ علاقہ قرب حاصل ہو اُن کی تعظیم و توقیر اسی علاقہ ونسبت کی تعظیم ہے اور اس علاقہ ونسبت کی تعظیم و توقیر در حقیقت اللہ رب العزت تبارک و تعالیٰ ہی کی تعظیم و توقیر ہے، ان کی عزت اسی کی عزت ہے۔ حدیث میں حافظ قرآن اور بوڑھے مسلمان اور عادل سلطان کی تعظیم کو اللہ عز وجل کی تعظیم فرما یا گیا ہے : ان من اجلال الله اکرام ذى الشيبة المسلم و حامل القرآن غير الغالي فيه والجافي عنه واكرام ذى السلطان المقسط (1) (1) سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فى تنزيل الناس منازلهم الجزء الثاني ص ۶۶۵ ، اصح المطابع اسی وجہ سے حدیث میں وارد ہوا : ,, النظر الى وجه العالم عبادة (1) عالم دین کے چہرے کی زیارت عبادت ہے۔ تو جہاں اولیائے کرام، علمائے عظام ہوں اس جگہ کو شرافت کیوں نہ ہوگی ؟ روضۂ اقدس علی صاحبہا التحیۃ کی اس خاک کو جو جسد اطہر سے متصل ہے کعبتہ اللہ پر فضیلت حاصل ہے تو نائبان مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مسکن کو کیونکر شرافت نہ ہوگی ؟ مگر کور چشم کو کیا آئے نظر کیا دیکھے۔ واللہ تعالی اعلم (۹) زکاۃ سونے چاندی اور سامان تجارت اور چرائی کے جانوروں پر سال گزرنے پر زکاۃ ہے۔ فصل کی پیداوار پر دسواں حصہ ہے جبکہ بارش وغیرہ کے پانی سے ہو ورنہ بیسواں حصہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) اگر یہ ۲۰۰ روپے سال کے اندر اصل رقم پر بڑھے تو یہ اصل کے ساتھ جمع کر لئے جائیں گے اور اب ۱۲۰۰ / پرز کو ۃ واجب ہوگی بشر طیکہ دین اور حاجت اصلیہ سے فارغ ہوور نہ صرف ایک ہزار پر واجب ہوگی۔ اور اگر اس سے کم ہو تو کم پر جبکہ نصاب بھر رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب هو اصح والصواب والحجیب مصیب ومثاب قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی