میلاد شریف میں قیام و سلام کی وجہ اور اس کی شرعی حیثیت
(۲۷) میلاد شریف میں سلام کھڑے ہو کر کیوں پڑھتے ہیں؟ وجہ معقول تحریر فرمائیے اور کیا اس طرح
در مختار میں ہے:
،،
كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “ (1) اور اس کی شرعی نصیحت پر عمل لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) زید بے قید سخت گنہ گار مستوجب نارہ مستحق غضب جبار ہوا، اس پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرے اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے کہ یہ رسوم شرک ہیں ، اور ان کا انجام دینا کفر ہے۔ زید جب تک تو به صحیحه و تجدید ایمان وغیرہ نہ کرے، ہر واقف حال مسلم اسے چھوڑ دے اور اس کے ساتھ وہی برتاؤ کرے جو مرتد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) زید اپنی حیات میں اپنی جائیداد کا خود مالک ہے اپنی ملک پر ہر جائز وصیح تصرف کا اختیار ہے لہذا اس نے بصحت ہوش و حواس و ثبات عقل غیر مرض وفات میں اپنے بھائی کو زمین دیدی اور اس پر اسے قابض و دخیل کر دیا تو وہ زمین اس کے بھائی کی ہو گئی۔ اب اس میں کسی کو حق نہیں پہنچتا مگر زید کو یہ حلال نہ تھا کہ بے وجہ شرعی اپنے وارث لڑکی کو میراث سے محروم کر دے۔ حدیث میں ہے جو اپنے وارث کے میراث سے بھاگے اللہ تعالیٰ اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے گا اور اگر زید نے بھائی کو ہنوز زمین پر قابض نہ کیا ہو تو بعد حیات لڑکی کو باپ کے کل ترکہ سے نصف ملے گا۔ واللہ تعالی اعلم (۴) بر تقدیر صدق سوال و انحصار ورثه در مذکورین بعد تقدیم ما نقدم وادائے دیون وغیر ہا کل ترکہ زید گیارہ سہام پر تقسیم ہو گا جن میں سے دو دوسہام دونوں لڑکوں ،۱- اہرلڑکی کو دیا جائے۔ قال تعالى : لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأَنْقَيَيْنِ “(۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) صورت مسئولہ میں زید دروغ گو ہوا، اسے نذرانہ لینے کے لئے دروغ گوئی حلال نہیں ہے، تو بہ کرے ورنہ لائق امامت نہیں ہے اور جھوٹ بول کر جو رقم حاصل کی، اسے لوگوں کو واپس کرے۔ اور لوگ اس کے لئے چھوڑ دیں تو وہ رقم اسے حلال ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بشرطیکہ تراویح پڑھانے کی اجرت نہ دیں۔ (۶) اگر واقعہ یہ ہے کہ زید کو ایسا مرض ہے جس کے سبب وہ روزہ رکھنے کی قدرت نہیں پاتا یا صحیح اندیشہ ہے کہ مرض پڑھ جائے گا تو اُسے روزہ چھوڑ دینا حلال ہے پھر جب قدرت پائے تو روزوں کی قضا کرے ورنہ ہر روزہ کے بدلہ فدیہ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) بے کراہت درست ہے جبکہ کوئی وجہ شرعی مانع امامت نہ ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) زید پر لازم ہیکہ دونوں کے درمیان عدل کو قائم رکھے اور بے وجہ شرعی کسی پر زیادتی نہ کرے اور دونوں کو بھلائی کے ساتھ رکھے اگر وہ ایسا کرے تو اس سے طلاق مانگنا حلال نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (9) نسبندی کرنا کرانا حرام کام بد انجام ہے۔ زید بے قید اور اس کی بیوی پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) زید نے اگر جبر وا کراہ شرعی کی حالت میں طلاقنامہ پر انگوٹھا لگا یا اور زبان سے الفاظ طلاق نہ بولے تو وہ عورت بدستور اس کی بیوی ہے اور جبر وا کراہ شرعی یہ ہے کہ قتل یا قطع عضو یا ضرب شدید کی دھمکی دی جائے اور وہ اس پر بصورت خلاف ورزی قدرت بھی رکھتا ہو اور اگر جبر شرعی نہ تھا تو جیسی اور جتنی طلاقیں اس طلاق نامہ پر درج تھیں، واقع ہو گئیں جبکہ مضمون پر مطلع ہو کر اور سمجھ کر انگوٹھا لگایا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۱) نکاح نہ ہوا بعد عدت زید سے نکاح ہو سکتا ہے۔ زید اگر جانتا تھا کہ عورت منکوحہ غیر ہے تو وہ سخت گنہگار ہے۔ اس پر تو بہ لازم ہے اور عورت فورا علیحدہ ہو جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۲) سخت گنہ گار مستوجب نار ہے اور روپے اس کو حلال نہیں ، واپس کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۳) نسبندی کا حکم گزرا، وہ شخص گنہ گار ہے اور زمین کی پیداوار سے حلال نہیں ہے۔ ہدایہ میں ہے: ”لان مالهم مباح فی در اهم فبای طریق اخذه المسلم اخذ ما لا مباحا اذا لم يكن فيه غدر ) واللہ تعالیٰ اعلم (۱۴) اس کا اعتراض بیجا ہے۔ یا نبی سلام علیک پڑھنا بھی جائز ومستحسن ہے کہ شرعاً کوئی صیغہ سلام کا متعین نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۵) دعا مطلقاً جائز ومندوب ہے اس کا کوئی وقت شرعاً معین نہیں تو بعد خطبہ بھی جائز ہے اور مصافحہ اور معانقہ بھی جائز ہے۔ اسے ناجائز کہنا شرع پر افترا ہے۔ تفصیل کے لئے سرور العبد مصنفہ اعلیٰ حضرت واللہ تعالیٰ اعلم (1) الهداية، كتاب البيوع، باب الربو، ج ۲، ص ۷۰، مجلس برکات دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم زید کو حلال نہیں کہ بیوی کی یہ فرمائش پوری کرے کہ حد شرع سے داڑھی کم کرنا گناہ ہے۔ در مختار میں ہے: و يحرم على الرجل قطع لحيته اسی میں ہے: والسنة فيها القبضه یعنی بقدر یکمشت رکھنا سنت ہے اور اس سے کم کرانا یا منڈانا بالاتفاق حرام ہے۔ اسی میں فتح القدیر سے ہے: و اما الاخذ منها وهى دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه احد و اخذ كلها فعل يهود الهند، ومجوس الاعاجم حدیث میں ہے: لاطاعة للمخلوق في معصية الخالق اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت حلال نہیں۔ زید پر لازم ہے کہ بیوی کو تنبیہ کرے اور بیوی کو تو بہ کا حکم دے کہ اس نے گناہ پر اُکسایا۔ واللہ تعالیٰ اعلم شوہر کو اپنی بیوی پر فضیلت حاصل ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے: وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ نیز ارشاد ہے: الرّجالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء - الآية () اور بیوی کو شوہر کی جائز و مباح بات پر عمل کرنا لازم ہے۔ اس کی اطاعت اس میں نہ کرے گی تو گنہ گار ہوگی پھر حکم شرع کی خلاف ورزی پر دوہرا گناہ ہے۔ بیوی پر لازم ہے کہ شوہر اور شرع کا حکم مانے اور بے پردگی سے باز آئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۸) درخت جس نے لگائے اس کی ملک ہیں ان کا وقف کر نا صحیح نہیں۔ مالک کی اجازت سے مسجد وغیر ہا ہر کار خیر میں اس کی رقم لگا سکتے ہیں۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ قبرستان وقفی نہ ہو نہ درخت لگانے والے نے ان درختوں کو اس زمین کے سمیت جہاں درخت لگے، وقف کیا ہو ورنہ وہ درخت زمین موقوفہ کے تابع ہو کر وقف قرار پائیں گے اور ان کی رقم مسجد میں لگانا جائز نہ ہوگا۔ ہندیہ میں ہے: واذا غرس شجرة ووقفها بموضعها من الارض صح تبعا للارض بحكم الاتصال وان وقفها دون اصلها لا يصح وان كانت في ارض موقوفة (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۱۹) بے ثبوت شرعی کسی مسلمان کی طرف کسی گناہ کی نسبت حرام و گناہ ہے۔ لاتجوز نسبة مسلم الى كبيرة من غير تحقيق (۳) مسئول عنہ کا حکم بر تقدیر صدق سوال یہ ہے کہ وہ لوگ بے وجہ شرعی تفریق کے خواہاں ہیں سخت گنہگار مستوجب نار مستحق غضب جبار ہیں ان کا کہا ماننا سخت خسران و نقصان میں پڑنا ہے جس سے احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۰) درختوں کا حکم او پر گزرا اور تفصیل وہیں سے معلوم ۔ ہری گھاس سے اموات مسلمین کو ضرور فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ تسبیح کرتی ہے اس لئے قبرستان سے ہری گھاس کو کاٹ لینا نا پسندیدہ ہے اور سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام نے دو ٹہنیاں قبروں پر جن میں صاحب قبر کو عذاب ہورہا تھا، لگائیں اور فرمایا کہ ان دونوں پر تخفیف عذاب کی امید ہے جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں۔ رد المحتار میں ہے: يكره ايضا قطع النبات الرطب والحشيش من المقبرة دون اليابس كما في البحر والدرر وشرح المنية وعلله في الامداد بأنه مادام رطبا يسبح الله تعالیٰ فيؤنس الميت وتنزل بذكره الرحمة - اه ونحوه فى الخانية أقول ودليله ماورد في الحديث من وضعه عليه الصلاة والسلام الجريرة الخضراء بعد شقها نصفين على القبرين الذين يعذبان (1) واللہ تعالیٰ اعلم (۲۱) ان لوگوں کا فائدہ سے انکار غلط و بیجا اور وہابیہ کی عادت ہے تیجہ چالیسواں وغیرہ صدقات نافلہ ہیں جن سے مقصود ایصال ثواب ہے اور وہ شرعاً جائز ومندوب و خوب ہے۔ در مختار میں ہے : " والاصل ان كل من اتى بعبادة ماله جعل ثوابها لغيره وان نواها عند الفعل لنفسه لظاهر الأدلة (٢) تفصیل کے لئے الحجۃ الفاتحہ مصنفہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ دیکھئے۔اسے شرک و بدعت کہنا وہابیہ کی عادت اور ان کی پہچان ہے۔ زید کا قول اس بنا پر ان لوگوں کے متعلق درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۲) نکاح نہ ہوا۔ زید پر اس سے علیحد گی فرض ہے اور تو بہ واستغفار لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۳) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۴) وہ اصل رقم یا اس پر جتنا منافع ہوا، سب اس کے ورثہ کو دے جس سے رقم چھینی تھی یا ان سے معاف کرائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۵) برابر نہ کھڑے ہوں اور نہ بہ سبب محاذات نماز فاسد ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۶) اس کے ورثہ کو دے اور وہ شوہر خود بھی وارث ہے۔ لہذا اپنا حصہ نکال کر باقی بیوی کے ورثہ کو دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۷) سلام کھڑے ہو کر بہ قصد تعظیم رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پڑھنا جائز ومستحسن ہے جسکے استحسان و استحباب پرائمه روایت و درایت کا اتفاق ہے اور قرون مدیدہ سے مسلمانوں کے درمیان بلانگیر رائج ومعمول ہے اور جو امر مسلمانوں میں معمول و رائج ہو اور ان کے نزدیک محبوب و خوب ہو اور شرع سے اصلا منع نہ ہو، وہ اللہ ورسول جل وعلا وسایش ایتم کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ حضور علینا) کا ارشاد ہے: ،، ماراه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن (1) جسے مسلمان اچھا جانیں وہ امر خدا کے یہاں بھی اچھا ہے۔ معترض کا اعتراض غلط ہے بآواز بلند سلام پڑھنا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے نزدیک چلانا نہیں ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲۸) زید کا اعتراض غلط ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۹) درست ہو گئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳۰) دیہات میں جمعہ صحیح نہیں مگر عوام پہلے سے پڑھتے آئے ہوں تو منع نہ کیا جائے البتہ اگر چار رکعت فرض ظهر با جماعت دو رکعت بنام جمعہ پڑھ لینے کے بعد پڑھ لیا کریں تو فرض ظہر ذمہ میں نہ رہے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳۱) تھوک نگل لے اور امام کے ساتھ سلام پھیرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ رشوال المکرم ۱۴۰۹ھ (1) المقاصد الحسنة للسخاوى، الحرف المیم ، ص ۴۲۲، الحدیث ۷ ۹۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت