نسبندی، امامت، وہابیت اور مسجد کے فنڈ سے متعلق متفرق مسائل
اکثر عالم لوگ انکار کر دیتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں شرع کے حکم سے آگاہ فرمائیں۔ (۷) ایک مسجد کے کام کا چندہ اکٹھا کیا ہوا ہے، وہ چندہ دوسری مسجد کے کار تعمیر میں کام آسکتا ہے یا نہیں؟ اگر آ سکتا ہے تو کیونکر اور کیسے؟ اور نہیں آسکتا ہے تو کیونکر نہیں ؟ مع دلائل جواب عنایت فرمائیں۔
(۴۳۲۱) نسبندی حرام ہے، نگریج وذبح وقربانی کی صحت سے مانع نہیں اور قبول عبادت مشیت الہی پر موقوف ہے اور وہ فی نفسہ غیب ہے جس پر بے دلیل کسی کے لئے کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں، خواہ مطیع ومتقی ہو خواہ فاجر اور تو بہ صحیحہ کے بعد امامت بھی کر سکتا ہے جبکہ جامع شرائط امامت ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور فاتحہ بھی دے سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) وہ لوگ کیوں طلاق مانگتے ہیں ؟ مفصل لکھئے تو جواب دیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۶) ان کا انکار اگر بر بنائے وہابیت ہے تو وہ لوگ وہابی ہیں، ان سے احتراز فرض ہے اور اگر فاتحہ وغیرہ معمولات اہلسنت کو جائز سمجھتے ہیں تو بے وجہ شرعی انکار کرنے سے اہلسنت کو باز رہنا ضروری ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) دوسری مسجد میں چندہ دہندگان کی اجازت سے دے سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۶ / جمادی الاولی ۱۴۰۴ھ