دینی ادارہ کے مالی وسائل میں حلال کی اہمیت اور وقف جائیداد کو رہن رکھنے کی ممانعت
کر یہ زہر امت مسلمہ کو پلا رہا ہے، اس شخص کے لئے از روئے شرع کیا حکم ہے؟ (۹) اس ادارہ میں خدا پرست دیندار جو قلیل مقدار میں ہیں حق و باطل کے معرکہ میں دین کی سر بلندی اور غیر شرعی امور کے خاتمہ کی کوشش میں تاکہ اصلاح ہو جائے اور معاشرہ میں دینی اور تمدنی بگاڑ پیدا نہ ہوں، اخلاق خراب نہ ہوں لیکن برسر اقتدار جو یہود و نصاری کے غور وفکر کے حامل ہیں، انہیں یہ گوارہ نہیں وہ اپنی فکر باطل پر مضبوطی دکھا رہے ہیں اور یقین ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے لئے ہر طرح کا حربہ آزمائیں گے، بد بختی و غنڈہ گردی تک سے ہرگز گریز نہ کریں گے، وہ سیاسی سماجی اور معاشی اثر ورسوخ رکھتے ہیں، اسطرح نہ صرف ادارہ بدنام ہو جائے گا بلکہ ان بدبختوں کی خواہشات کا شکار ہوکر قوم کا یہ عظیم سرمایہ تباہ و برباد ہو جائے گا، از روئے شرع ان کے لئے کیا اقدامات ہونے چاہئے ؟ اور کون سی راہ اختیار کی جائے ؟ اور ان کے لئے کیا احکامات ہوں گے؟
الجواب: المستفتی : ڈاکٹر اسد اللہ گور مدنی متور موٹلی پائی اسٹریٹ آگرہ پاڑہ ،بمبئی (1) دینی کاموں میں حلال و طیب آمدنی لگا نالازم ہے۔ حدیث میں ہے: ان الله طيب لا يقبل الا الطيب اللہ طیب ہے وہ طیب ہی کو قبول فرماتا ہے۔ ناجائز وحرام رقم جس کا بعینہ مال حرام سے ہونا معلوم ہو، اسے لینا حرام ہے اور جس کا بعینہ مال حرام ہونا معلوم نہ ہو، اسے لینا جائز ہے اگر چہ احتر از اس سے بھی بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں، ہر گز نہیں کہ ادارہ کی ملک وقف کا حکم رکھتی ہے اور وقف کو دین رکھنا حرام اور سود کا معاملہ حرام در حرام ۔ درمختار میں ہے: (1) فاذاتم ولزم لا يملك ولا يعار ولا يرهن فبطل شرطه واقف الكتب الرهن ولوسكنه المشترى او المرتهن لزم اجر المثل قنية (1) اور اگر زیادہ دینے کا معاملہ مسلم سے ہو تو یہ بلاشبہہ سود ہے اور اسد کبیرہ عظیم گناہ ہے اور اگر زیادہ دینا حربی کافرکو ہوتو یہ سود نہیں کہ مسلمان اور حربی کافر کے درمیان سود نہیں ہوتا اس لئے کہ حربی کا مال شرعاً معصوم نہیں اور سود میں دونوں طرف مال معصوم ہونا شرط ہے۔ ردالمحتار میں ہے: ،، من شرائط الرباعصمة البدلين (۲) مگر بلا ضرورت شرعیہ حربی کو نفع پہنچانا حرام ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: إِنَّمَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ الآيَةَ “ (۳) اور یہاں ضرورت شرعیہ کا نہ ہونا ظاہر ہے اور حربی اور مسلم سے جب سود نہیں ہوتا لہذا اس کی جانب سے مسلم کو اس کی خوشی سے بغیر بدعہدی و ذلت نفس کے جو ملے وہ خالص مباح ہے، اسے سود سمجھنا جائز نہیں۔ ہدایہ میں ہے: لأن مالهم مباح فی دار هم فبای طریق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا ،، اذا لم يكن فيه غدر “ () یہاں سے بینک وغیرہ کے منافع کا حکم ظاہر ہوا اور تفصیل کے لئے بینک اور ڈاکخانوں کے منافع کا شرعی حکم قادری بکڈ پونو محلہ مسجد بریلی سے طلب کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں، بلکہ صورت مسئولہ میں اگر ادارہ کی رقم سود کی ادائیگی میں خرچ کی گئی تو متولی ادارہ پر تاوان ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) حکم گزرا مسلم سے یہ معاملہ سود و حرام ہے اور حربی سے جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ادنی داموں پر ان اشیاء کی فروخت ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) (۲) (۳) الدر المختار، کتاب الوقف، ج ۶، ص ۵۳۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت رد المحتار، کتاب البیوع باب الربوا ، ج ۷، ص ۳۹۹، دار الكتب العلمية، بيروت سورة الممتحنة: ٩ (۴) الهداية، كتاب البيوع، باب الربوا ص ٧٠ مجلس بركات (1) حکم پہلے سے ظاہر اور رقم ادارہ پر خرچ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) غیر شرعی امور میں تعاون حرام اور ایسی جگہ کوئی عہدہ قبول کرنا جائز نہیں۔ ہاں،مگر جبکہ اصلاح کا ظن غالب ہو یا تعین ہو تو عہد و قبول کرنا ضرور۔ واللہ تعالی اعلم ۔ اور تعلیم دلانے میں حرج نہیں جبکہ تعلیم دینی ہو ورنہ ہرگز نہ دلائی جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) بر تقدیر صدق سوال ایسا شخص جس کے یہ افعال و احوال مندرجہ سوال ہیں، نہایت گناہ گار ظالم جفا کارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے، اسے کوئی منصب دینا حرام بد کام بدانجام ہے اور ادارہ کی تولیت سے اس کو معزول کرنا واجب ہے۔ در مختار میں ہے : ” وینزع وجوبا بزازيه: لو الواقف غير مأمون او عاجزا او ظهر به فسق کشرب خمر و نحوه ) واللہ تعالیٰ اعلم (۹) ہر ممکن صورت برائی کے ازالہ کی کریں۔ عند اللہ ماجور اور عند الناس مشکور ہونگے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶ / جمادی الآخر ۱۳۸۸ھ