حجر اسود کی حقیقت اور ہندوؤں کے اعتراضات (بت پرستی اور حلالہ) کے جوابات
حجر اسود دودھ سے زیادہ سفید تھا اسے بنو آدم کی خطاؤں نے کالا کر دیا ! کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیان عظام و حضرات مشائخ کرام مندرجہ ذیل مسائل میں کہ (1) حجر اسود کی کیا حقیقت ہے؟ اور غیر مسلم (ہندو) کہتا ہے کہ مسلمان بھی تو بت پرستی کرتے ہیں کیونکہ حجر اسود بھی ایک پتھر اور مسلمان اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ حضور احکام شرع اور عقلی دلائل سے جواب آسان اردو میں مرحمت فرمائیں جس سے گدائے رضوی مشرکوں کو لاجواب کر سکے۔ بینوا توجروا (۲) طلاق کے بعد حلالے کے سلسلہ میں ہندو کہتا ہے کہ یہ کون سا مذہب ہے اور اس مذہب کا کون سا قانون ہے کہ عورتوں کی عزت سے کھیلا جاتا ہے کہ مسلمان مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور پھر
پتھر جولوگوں کے لئے علامت ہو، لا کر دو تو حضرت اسماعیل علی نبینا وعلی ابیہ وعلیہ الصلاۃ والسلام نے ایک پتھر حاضر کیا، سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: اس سے اچھا پتھر لاؤ، تو سیدنا اسماعیل علیہ السلام اس سے اچھا پتھر ڈھونڈنے کو چلے تو جب ابو تمہیں نے ندا کی: اے حضرت ابراہیم ! میرے پاس آپ کی ایک امانت ہے، اسے آپ لے لیجئے ۔ نیز اسی خازن میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حجر اسود شریف جنت سے اترا اور یہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، اسے بنو آدم کی خطاؤں نے کالا کر دیا۔ یہ حدیث ترمذی نے روایت کی اور فرمایا کہ یہ روایت حسن صحیح ہے۔ نیز ترمذی کی روایت میں عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ رکن ( یعنی حجر اسود ) اور مقام سیدنا ابراہیم علیہ السلام جنتی یا قوت میں سے دو یا قوت ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی ماند فرمادی اور اگر ان کی روشنی ماند نہ فرما دیتا تو مشرق و مغرب اور ان کے مابین کو جگمگا دیتے اور سابقہ روایت سے مطابقت یوں ہوگی کہ حجر اسود جنت سے اترا اور خدا کے حکم سے جبل ابوقبیس میں وہ اس وقت تک ودیعت رہا۔ اور غیر مسلم غلط کہتے ہیں، مسلمان کعبہ یا حجر اسود کو نہیں پوجتا، وہ تو صرف اللہ کو پوجتا ہے اور کعبہ کی طرف اسی کے حکم سے منہ کرتا ہے اور کعبہ کو پوجنے کی نیت سے عبادت کرنے والا مسلمان نہیں [ در مختار ]۔ واللہ تعالیٰ اعلم غیر مسلموں کا مذاق اڑانا ان کی بد عقلی کی دلیل ہے، حرام و حلال میں نکاح صحیح ہی وجہ امتیاز ہے، بے نکاح صحبت کرنے والے مردوزن کو ہر مذہب والا برا سمجھتا، بدکار جانتا ہے اور نکاح کرنے والوں کو سب پاکباز سمجھتے ہیں اور طلاق سے نکاح ختم ہو جاتا ہے پھر عورت کو عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کی اجازت ہے اور جب نکاح ہر ذی عقل کے نزدیک پاکدامنی کا سبب ہے تو اسے عزت سے کھیلنا کوئی پاگل ہی کہے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم ہم حنفی ہیں، ہم پر امام اعظم ابو حنیفہ کے مذہب کی تقلید واجب ہے، ہمارے مذہب میں سینہ پر ہاتھ باندھنے کا حکم نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور دیوبندی عقائد کفریہ کے سبب کا فربے دین ہیں، ان کی باتوں پر کان دھر نا جائز نہیں ، یوں ہی غیر مقلدوں سے اجتناب فرض ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اس کے اسلام لانے کی تفصیل مجھے معلوم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۶ / جمادی الآخره ۱۲۰۷ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی