منکوحہ غیر سے نکاح کا حکم، ایصالِ ثواب اور دیگر مسائل
کر نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔ چین والا پٹہ گھڑی میں لگا کر امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟ کتاب کے حوالہ سے جواب دیں، ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھیں تو نماز ہوگی یا نہیں؟ جواب دیں! (11) محرم کی گیارہویں تاریخ کا روزہ حرام ہے یا نا جائز ؟ رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ ضرور جواب دیں! اوپر کے سوالوں کے جواب مفصل اور کتاب کے حوالے سے دیں۔ جواب کے لئے لفافہ حاضر ہے۔ حضرت قبلہ پیر و مرشد مفتی اعظم ہند صاحب کا ٹھیہ واڑ گجرات میں کب تشریف لائیں گے؟ ضرور جواب دیں۔ ماہنامہ اعلیٰ حضرت کا چندہ فی الحال کیا ہے؟ تحریر کریں ۔ فقط ! ناچیز سگ بارگاه رضا عبدالرؤف رضوی مصطفوی لاٹھی والا ، چوٹیلا
الجواب: (1) صورت مسئولہ میں ایسا نکاح باطل اور اس میں جتنی قربت ہوئی خالص زنا، حرام قطعی جبکہ شوہر کو معلوم ہو کہ عورت منکوحۃ الغیر ہے۔ قال تعالیٰ: {وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النساء - الآية } اور اگر اس دوسرے کو علم نہ تھا تو یہ نکاح فاسد ہوا اور اب اس پر الزام نہیں۔ ہاں بعد علم فوراً متارکہ فرض ہے اور وہ یہ ہے کہ مرد یا عورت ایک دوسرے سے کہے کہ میں اس سے جدا ہوا یا ہوئی۔اس میں تاخیر کرنا گناہ ہے۔ جن واقف حال لوگوں نے ایسا نکاح کرایا یا اس میں شرکت کی سب پر تو بہ فرض ہے۔ نکاح ان کے نہ ٹوٹے ۔ ہاں اگر یہ شرعا ثابت ہو کہ ایسے نکاح کو حلال جانا تو یہ ضرور کفر ہے اور مبطل نکاح ہے۔ درمختار میں ہے: دو وارتداد احدهما فسخ عاجل (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) درود شریف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے رحمت ہے اور دعا ذکر الہی اور عبادت ہے اور عبادت ( خواہ بدنی ہو خواہ مالی ) با تفاق ائمہ حنفیہ آدمی کو اختیار ہے کہ اس کے ثواب کی غیر کو پہنچنے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔ درمختار میں ہے: الاصل ان كل من اتى بعبادة ماله جعل ثوابها لغيره وان نواها عند الفعل لنفسه - الخ“ (1) جو مدعی تفریق ہے دلیل اس کے ذمہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ہندو نے اگر گوشت پکا یا اور وہ پکنے تک نظر مسلم سے اوجھل نہ ہوا تو کھانا جائز ہے اور اگر کچھ دیر کے لئے نظر مسلم کے سامنے نہ رہا تو اسے کھانا حرام ۔واللہ تعالیٰ اعلم (۴) قبر کے سامنے نماز پڑھنا مطلقاً حرام ہے جبکہ استقبا قبر کا یا تعظیم قبر کا معاذ اللہ قصد کرے۔ اور اگر عیاذ باللہ نیت عبادت قبر یا میت کی ہے تو سب اسلام اور اگر یہ دونیت فاسدو نہ ہوں بلکہ صاحب قبر کوئی اللہ کا ولی ہے یہ اس کی روح سے فیض چاہتا ہے تو قبر کے سامنے ہلا حائل و بلاسترہ (چھٹڑی لکڑی وغیرہ) نماز پڑھنا نا جائز و گناہ ہے۔ جبکہ قبر مصلی سے بالکل قریب ہو۔ اور اگر قبراتنی دوری پر ہے کہ جب یہ خاشعین کی طرح نیچی نظر کئے اپنے سجدہ کی جگہ نظر جمائے تو قبر تک نگاہ نہ پہونچے تو نماز بلا کراہت جائز ہے جبکہ قبر ایک کنارے ہو۔ خانیہ پھر عالمگیری میں ہے: ان كان بينه و بين القبر مقدار مالو كان في الصلاة ويمر انسان لایکره فههنا ايضا لا یکره (۲) جامع مضمرات شرح قدوری پھر جامع الرموز شرح نقایہ پھر طحطاوی علی مراقی الفلاح پھر ردالمحتار علامہ شامی میں ہے: لاتكره الصلاة في جهة قبر الا اذا كان بين يديه بحيث لو صلى صلوة الخاشعين وقع بصره علیه (۳) بالجملہ، جو مزارات کے حضور ہے اور مزار کریم مستور ہے یا نظر خاشعین سے دور ہے و فاسد نیت سے مازور ہے اور تبرک و استمداد کی نیت سے ماجور ہے کہ نماز و نیاز کا اجتماع نور علی نور ہے۔ اھ ۔ من (۵) ایسا شخص سخت گنہ گار ہے اسے ابتدا بسلام کرنا منع ہے اور سلام کا جواب اس کے واجب نہیں ہے اور میل جول اس سے حرام جب تک تو بہ نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) جہاں وہ خاص مشرکہ عورتوں کا لباس ہو وہاں ممنوع ہے۔ اور جہاں خاص نہ ہو وہاں جائز ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) واجبی اجرت پر استعمال کے لئے مسلم کو دے سکتے ہیں عاریت کو نہیں دے سکتے ہیں۔ غیر مسلم کو نہ دینا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) خوجہ جب ہندو ہے تو اس کے جنازے کی نماز پڑھنا اس کا نتیجہ وغیرہ کرنا حرام اشد حرام جس سے تو بہ و تجدید ایمان لازم ہے۔ یونہی کندھا دینا حرام ۔ واللہ تعالی اعلم (۹) اس سے کسی کار دینی میں پیسہ لینا جائز نہیں نہ از خود نہ اس کا دیئے پر اگر چہ اصرار کرے۔ واللہ تعالی اعلم (۱۰) شرٹ وغیرہ جور ان سے اوپر ہوتی ہے اپنا لباس نہیں، اسے نہ پہننا چاہئے جو چین باندھ کر نماز پڑھتا ہے، فاسق ہے۔ ایسے حافظ و مولوی کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے ۔ پڑھنا گناہ اور پھیرنا واجب ہے۔ غنیہ میں ہے: در مختار میں ہے: ،، لوقدموا فاسقاياثمون (٢) كل صلوٰة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۳) پینٹ پہنا بُرا ہے اگر چہ نماز ہو جائے گی جبکہ رکوع وسجود میں مخل نہ ہو۔ ورنہ کراہت زیادہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۱) حرام کا ہے کو ہوا ؟ جائز ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۳ جمادی الاخری ۱۳۹۶ھ الجواب هو صحیح والصواب والمجیب مصیب و مشاب قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی مکرمی جناب سلام مسنون ! طالب خیر محمد و تعالی مع الخیر ہے۔ حضرت علیل ہیں علاج جاری ہے بحمدہ افاقہ کافی ہے، سفر علالت کی وجہ سے ملتوی ہے۔ چندہ ماہنامہ اعلیٰ حضرت کا مبلغ دس روپے سالانہ ہے۔ والسلام فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله