جاندار کی تصویر بنانے اور شائع کرنے کی حرمت اور ایڈیٹر کا حکم
(2) جب اسلام میں تصویر کھینچا نا نا جائز ہے اور ہر جگہ لکھنے میں آیا ہے کہ جس مکان یا دوکان میں جاندار کی تصویر ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آئیں گے تو ایڈیٹر صاحب نے خلاف شرع ایسا کیوں کیا ؟ ایڈیٹر کے لئے شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ قرآن کریم و حدیث پاک کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ کیونکہ ایک طرف تو علمائے کرام یہ فرماتے ہیں کہ یہ کام نا جائز ہے، دوسری طرف وہی علمائے کرام اس کو جائز مان کر عام طور سے شائع کر دیتے ہیں۔ کیا علمائے کرام شریعت مطہرہ کے احکام میں اپنی من مانی سے رد و بدل کر سکتے ہیں؟ کر سکتے ہیں تو کیوں اور کیسے؟ جب ہمارے رہنما بھی اس طرح سے جائز کو ناجائز اور ناجائز کو جائز کر کے ہر خاص و عام کے سامنے پیش کر دیں گے تو ہم جیسے ان پڑھ غلام کا کیا حال ہوگا ؟ ہماری عقیدت کا کیا ہوگا ؟
الجواب: (1) نہیں کہ جاندار کی تصویر ہماری شرع میں حرام ہے۔ تفصیل کے لئے رسالہ العطا یا القدیر مصنفہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ یا ہمارا رسالہ تصویروں کا حکم دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۲) ایسا کیوں کا جواب ایڈیٹر کے پاس ہے، وہ شرعاً گناہ گار ہوئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ ردو بدل کرنا کسی کو روانہیں ، جو ایسا کرے وہ رہنما نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله