جھوٹا الزام لگا نا سخت گناه اشد کبیرہ عظیم جرم ہے، شرعاً جرمانہ ممنوع ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسائل ذیل میں کہ (۱) کچھ اشخاص اور ایک مسجد کے امام صاحب نے ایک بے گناہ مسلمان کے خلاف تھانہ میں زنا کاری کی جھوٹی رپورٹ درج کرا دی، جب بات کی تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ الزام غلط ہے۔ نیز الزام غلط لگانے والوں نے بھی یہ تسلیم کر لیا کہ یہ الزام جھوٹ ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ غلط الزام لگانے والے پر شریعت مطہرہ میں سزا کیا ہے اور مذکور پیش امام کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ (۲) مسجد کے اندر آرام کرنا اور دینی و دنیاوی باتیں کرنا شریعت میں کیا حکم رکھتا ہے؟ (۳) ایک شخص مزار شریف کی جائیداد کو اپنی جائیداد کر لیا، مذکورہ جائیداد کی پیداوار کا حساب کتاب وقف فنڈ میں ادا کئے بغیر اپنی اولاد کے لئے خرچ کرتا ہے۔ نیز مذکور جائیداد کو اپنے قبضے میں کرنے کے لئے ایک جعلی دلیل بنوا لیا جبکہ ایک پیش امام صاحب بھی اس شخص کے ساتھ شریک ہے۔ جواب طلب امر یہ ہے کہ اس شخص اور امام صاحب پر حکم شرع کیا ہے؟ (۴) محلے کے کچھ لوگ اور امام صاحب کا ایک زانی اور زانیہ کوزنا کاری کی جگہ میں پکڑنے کے باوجود زانی اور زانیہ کو سزا دیے بغیر چھوڑ دینا کیسا ہے؟ (۵) ایک مسلمان صدر نے ایک غیر مسلم زانی اور ایک مسلمان زانیہ کو پکڑ کر غیر مسلم زانی سے جرمانہ کے طور پر کچھ روپے وصول کیا۔ مذکورہ روپے کو اس طرح تقسیم کیا کہ یہ کچھ روپے اپنے آپ لیا اور کچھ روپے زانیہ کو دیا۔ ایسا کر نا شریعت میں کہاں تک جائز ہے؟
الجواب: المستفتی: عبدالرحمن قادری، ساکن بد یادھ پور، (اڑیسہ) (1) جھوٹا الزام لگا ناسخت گناہ اشد کبیرہ عظیم جرم ہے، اُن لوگوں پر اس سے تو بہ فرض ہے اور امام بھی تو بہ کرے ورنہ وہ لائق امامت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) غیر معتکف کو جائز نہیں اور معتکف کو جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) وہ شخص سخت گناہ گار خائن ہے اور مستحق معزولی ہے اور جو اس کا ساتھ دے وہ بھی سخت گناہ گار ہے اور امامت اس کی مکروہ ہے اور اس کی اقتدا میں نماز واجب الاعادہ ہے بشرطیکہ اس کا یہ جرم ثابت ومشتہر ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) سزا دینا سلطان اسلام کا کام ہے، عام لوگوں کو سزا دینے کا اختیار نہیں ہے اور سلطان اسلام مفقود ہے تو سزا کون دے؟ ہاں ، ان سے اظہار بیزاری ضروری ہے۔ (۵) شرعاً جرمانہ ممنوع ہے۔ لہذا یہ نہ چاہئے تھا، اگر چہ وہ رقم جو غیر مسلم سے ملی ، حلال ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله