بیعت کی شرعی حیثیت اور جامع شرائط پیر کے اوصاف
بیعت ہونا فرض، واجب یا سنت ہے؟ حضرت مولا نا مفتی صاحب قبلہ ! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ذیل کے مسائل میں کہ (1) بیعت ہونا فرض ، واجب یا سنت ہے؟ اور اگر بیعت نہیں ہوئے پھر انتقال کر گئے تو ان کے لئے کیا حکم ہے؟ (۲) بیعت کیسے پیر کے پاس ہونا چاہئے؟ جس پیر کو کسی بزرگ سے خواب میں خلافت عطا ہوئی تو اس خلافت کا کیا حکم ہے؟ المستفتی: محمد سرمد پاشا قادری قول پیٹ ، ہاسپیٹ ضلع بلاری (کرناٹک)
الجواب: (1) سنی صحیح العقیدہ جامع شرائط بیعت سے مرید ہو جانا مستحب ہے اور بہ شرط معروفہ بیعت معروفہ کو جائز ومستحسن جانناضروریات اہلسنت سے ہے اور اسے حرام و ناجائز جاننا گمراہی و بے دینی ہے۔ جولوگ ضلالت و بے دینی سے بری و بیزار، عقیدہ اہلسنت پر دنیا سے جائیں وہ ضرور ناجی ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) پیر کاسنی صحیح العقیدہ، عالم مسائل ضروریہ، باعمل ہونا ، اس کا سلسلہ بیعت متصل ہونا اور اس کا مازون و مجاز ہونا ضروری ہے، خواب میں خلافت ملنا کافی نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم