اذان کے بعد صلوۃ وسلام پڑھنے کی ابتدا اور اس کی شرعی حیثیت
اذان کے بعد صلوۃ کا رواج کب سے پڑا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ اذان کے بعد صلاۃ کہی جاتی ہے یہ کہاں سے شروع ہوئی ؟ اور کیوں ہوئی ؟ فقہ و قرآن و حدیث سے جواب مرحمت فرمائیے ۔ فقط ۔ والسلام المستفتی: عبد المجد نعیمی قادری سنی حنفی پیش امام جامع مسجد ، شیر پورضلع مراد آباد
الجواب: صلاة تثویب کے قبیل سے ہے اور اسے جملہ متأخرین حنفیہ نے مستحب فرمایا ہے۔ اور اس کا سبب امور دینیہ میں سستی کا ظہور ہے اور خاص یہ فعل پانچ سو برس بلکہ چھ سو برس سے زیادہ ہوئے کہ مسلمانوں میں بلانکیر رائج ہے۔ درمختار میں ہے: التسليم بعد الاذان حدث في ربيع الآخر سنة سبع مأة واحدى وثمانين في عشاء ليلة الاثنين ثم يوم الجمعة ثم بعد عشر سنين حدث في الكل الا المغرب ثم فيها مرتين وهو بدعة حسنة () واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰/شعبان المعظم ۱۳۹۸ھ