کیا قبرستان کی آمدنی کا روپیہ وغیرہ مسجد کے کاموں میں لگایا جاسکتا ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ قبرستان کے اندر چند درخت نیم و برگد وغیرہ کے کھڑے تھے، ان میں سے ایک یا دو درخت سوکھ جانے کے سبب کٹوا کر ان کی لکڑی فروخت کر کے اس کا روپیہ کچھ لوگ مسجد کے مائک یعنی لاؤڈ اسپیکر کی بیڑی وغیرہ کے لئے خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا قبرستان کی آمدنی کا روپیہ وغیرہ مسجد کے کاموں میں لگایا جا سکتا ہے؟ المستفتی: حافظ محمد ولی اللہ صدیقی نوری، موضع گوئی، پوسٹ جو گرا از پور ضلع شاہ جہان پور
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: پیر جس نے قبرستان میں لگائے ، اس کی ملک ہیں، اس کی یا اس کے ورثہ کی اجازت سے اس کا پیسہ مسجد میں لگا سکتے ہیں اور اگر مالک یا اس کے ورثہ معلوم نہیں تو ان درختوں کی قیمت کو فقیر مسلم پر صدقہ کرنا واجب ہے، پھر اس کی خوشی سے مسجد میں لگا دیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۰ · صفحہ ۴۱۴–۴۱۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بیوی کی زندگی میں اس کی بہن (سالی) سے نکاح کرنے کا شرعی حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
بیوی کی پاکدامنی پر اعتماد اور بدگمانی سے بچنے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
اذان کے بعد صلوۃ وسلام پڑھنے کی ابتدا اور اس کی شرعی حیثیت
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
طوطا کھانے کا حکم اور اعداد ۷۸۶ اور ۹۲ کا مطلب
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
کرایے کی زمین رشوت دے کر اپنے نام کرنے کی ممانعت اور میلاد کے جلوس کا جواز
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ