بیوی کی پاکدامنی پر اعتماد اور بدگمانی سے بچنے کا حکم
بدگمانی سے بچو کہ یہ بڑی جھوٹی بات ہے! (الحدیث) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عابدہ کا شوہر زید کلکتہ رہتا ہے اور عابدہ دیہات میں رہتی ہے، عابدہ نے ایک آدمی کے ہمراہ کلکتہ آنے کا ارادہ کیا جو کہ رشتہ میں اس کا دیور ہے اور وہ بجائے کلکتہ لانے کے چھپرہ والی ٹرین میں بٹھا دیا اس طرح وہ بجائے کلکتہ آنے کے چھپرہ پہنچ گئی اور وہاں پہنچ کر وہ کافی پریشان ہوئی۔ بہر صورت وہاں ایک بڑھیا کے یہاں پناہ گزیں ہوئی اور قریب چار ماہ اس بڑھیا کے پاس رہی اور وہاں پہنچنے کے ایک ماہ بعد اس کا خط بنام سر پرست علاوہ شوہر کے پہنچا تو وہ لوگ وہاں جا کر اس کو لے آئے اور میکہ پہنچا دیا اور کچھ روز میکہ پر رہ کر اب شوہر کے پاس آئی ہے۔ اب ایسی صورت میں وہ اپنے شوہر سے رجوع ہوسکتی ہے کہ نہیں؟ جبکہ وہ اپنے پاکدامنی کے سلسلہ میں خدا کے کلام کا واسطہ دیتی ہے۔ برائے مہربانی شرعی مسئلہ سے آگاہ فرمائیں۔ بینوا توجروا۔ فقط المستفتی محمود عالم، از کلکته، کیلا گان
الجواب: ہوسکتی ہے اور شوہر کو اس کی بات پر اعتبار ضرور ہے کہ بدگمانی حرام ہے۔ حدیث میں ہے: اياكم والظن فان الظن اكذب الحديث “ (1) (1) صحیح البخاری، کتاب الفرائض ، ج ۲، ص ۵۹۹، مجلس برکات بدگمانی سے بچو کہ یہ بڑی جھوٹی بات ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله