نابالغ لڑکے کے ہاتھ سے پانی لے کر پینا یا وضو کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نابالغ لڑکے کے ہاتھ کا پانی پینا یا وضو کرنے کے لئے پانی لینا کیسا ہے؟ پوری تشریح کے ساتھ تحریر کر دیجئے گا۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: نل یا حوض یا کنوئیں وغیرہ کا پانی مباح غیر مملوک بچہ جب اپنے ظرف میں بھر لے تو وہ اس کی ملک ہو جا تا ہے۔ اور نابالغ بچہ اپنی چیز بے عوض کسی کو نہیں دے سکتا نہ کسی کو یہ حق پہنچے کہ نابالغ کی چیز کسی کو بخش دے کہ یہ ضر محض اس کے حق میں ہے۔ در مختار میں ہے: ”تصرف الصبى والمعتوه الذى يعقل البيع والشراء ان كان نافعا محضا كالاسلام والاتهاب صح بلا اذن وان ضاراً كالطلاق والعتاق والصدقة والقرض لا وان اذن به وليهما ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۰ · صفحہ ۴۱۰–۴۱۱
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
اوجھڑی کھانے، اسکول کی چھت پر گندگی رکھنے اور بغیر جنازہ تدفین کے احکام
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
طوطا کھانے کا حکم اور اعداد ۷۸۶ اور ۹۲ کا مطلب
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
قبرستان میں نماز جنازہ کے لیے مخصوص جگہ پر فرض نماز ادا کرنے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
بیوی کی پاکدامنی پر اعتماد اور بدگمانی سے بچنے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
جنازہ گاہ میں پنج وقتہ نماز کی جماعت قائم کرنے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ