جنازہ گاہ میں پنج وقتہ نماز کی جماعت قائم کرنے کا حکم
سوال
جہاں نماز جنازہ پڑھی جاتی ہو وہاں پنج وقتہ کی جماعت کرنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب:اس جگہ نماز فرض پڑھنے میں حرج نہیں جبکہ وہ جگہ مظنه قبر ونجاست نہ ہو، سامنے قبور حائل نہ ہوں ۔ ردالمحتار میں ہے:ولا بأس بالصلاة فيها اذا كان فيها موضع أعد للصلاة وليس فيه قبر ولا نجاسة كما فى الخانية ولاقبلته الى قبر ، حلية ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ ؍ رجب المرجب ۱۴۰۱ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۰ · صفحہ ۴۰۷–۴۰۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بیوہ عورت کو ایام عدت میں سر میں تیل ڈالنے اور کنگھی کرنے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
قبرستان میں نماز جنازہ کے لیے مخصوص جگہ پر فرض نماز ادا کرنے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
اوجھڑی کھانے، اسکول کی چھت پر گندگی رکھنے اور بغیر جنازہ تدفین کے احکام
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
بر بنائے عناد ترک تعلق کرنے والے کا حکم !
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
نابالغ لڑکے کے ہاتھ سے پانی لے کر پینا یا وضو کرنا
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ