بیوہ عورت کو ایام عدت میں سر میں تیل ڈالنے اور کنگھی کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ بیوہ عورت کو ایام عدت میں سر میں تیل ڈالکر کنگھی وغیرہ کرنا چاہئے یا نہیں؟ نیز کپڑے وغیرہ دھو کر اور نہا کر پہنا چاہئے یا نہیں؟ اگر سر میں کنگھی نہ کر یگی تو بڑے بال ہونے کے سبب سر اور بالوں کی حالت تو بڑی تکلیف دہ ہو جائیگی۔ شرعی حکم سے مطلع فرمائیں۔ المستفتي محمد منہاج اللہ خاں ساکن کھمبول پوسٹ بجلیا بزرگ ضلع کھیری
الجواب: (1) موٹے دندانوں کے کنگھے سے بال کاڑھ سکتی ہے جبکہ زینت کا قصد نہ کرے اور بے خوشبو کا تیل بھی بہ ضرورت بے قصد زینت ڈال سکتی ہے اور بے خوشبو کا تیل نہ ہو تو بہ ضرورت خوشبودار بھی ڈال سکتی ہے اور نہانا کپڑے دھونا دھلے کپڑے پہنا جو عام طور سے گھروں میں عورتیں پہنتی ہیں اور اُن سے زینت نہیں ہوتی ، جائز ہے۔ ہندیہ میں ہے: قال شمس الائمة: المراد من الثياب المذكورة ما كان جديدا منها تقع به الزينة اما اذا كان خلقا لاتقع به الزينة فلا باس به كذافى المحيط (۱) اسی میں ہے: ان امتشطت با لطرف الذى اسنانه منفرجة لاباس به وانما يكره الامتشاط بالطرف الاخر لان ذلك يكون للزينة كذا في فتاوی قاضی خان (۲) اسی میں ہے: وانما يلزمها الاجتناب في حالة الاختيار اما فى حالة الاضطرار فلا باس بها ان اشتکت رأسها او عينها فصبت عليها الدهن او اكتحلت لاجل المعالجة، فلا بأس به وليکن لا تقصد به الزينة، كذا فی المحیط “ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا از هری قادری غفرلہ