بنگال میں زمینی بٹائی، غصب اور کمیونسٹ نظریات رکھنے والی جماعتوں کا حکم
فجر پڑھتے ہوئے سورج نکل آیا تو کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1) ہمارے بنگال میں حکومت کی جانب سے مسکمی بٹائی کرتا ہے، یعنی زید کی زمین کو بکر زور زبردستی سرکاری قانون کے مطابق اپنے دخل میں کر لیا زید کوزمین میں جانے نہ دیا اور زید وہ زمین اگر کسی ضرورت کی وجہ سے بیچنا چاہے تو کوئی لینے والا نہیں ہوتا مسکمی بٹائی کی وجہ سے اور زید کو کہتے ہیں زمین کا جو فصل ہوگا وہ بغیر رسید کے نہیں دونگا اب اس صورت پر بکر کو اس زمین کا فصل کھانا جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح سے ہمارے ملک میں بغیر مالک کے زمین کو اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے اور مالک زمین میں جب ہل جو تنے کو جاتا ہے تب مالک کو مار پیٹ کر واپس کر دیتا ہے اور مالک کچھ نہیں کر سکتا اس وجہ سے کہ سرکاری قانون ہے اب اس صورت میں زمین کا پیدا وار کھانا اور زمین کے مالک کو تکلیف دینا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) بنگال میں حکومت سی پی اے ایم کی ہے کانگریس اور سی پی اے ایم یہ دونوں پارٹی ہے یہ دونوں پارٹی آپس میں جھگڑ لڑائی کرتی رہتی ہے اور عام لوگ فتنہ کے اندر پڑ جاتے ہیں۔ سی پی اے ایم والے کہتے ہیں ہمارے گروہ میں آجاؤ اور کانگریس والا کہتا ہے کہ ہمارے گروہ میں آجاؤ مگر بعض لوگ کسی گروہ میں جاتے ہیں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ سی پی اے ایم والے لوگ مرتد ہیں اس وجہ سے کہ وہ لین اور کلمرس کے ماننے والے ہیں اور لین اور کلمرس کے قانون کو چالو کرے گا اور لیلن اور کلمرس دونوں اللہ کو
الجواب: (1) ناجائز وحرام بد کام بد انجام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم المستفتی: احتقر ابوالحسن مقام و پوسٹ پومنی پور ضلع مرشد آباد (۲) ہمارا تعلق سیاست حاضرہ سے نہیں ہے اور عافیت دارین اسی میں ہے کہ سیاست سے بے تعلق رہے اور واقعی فتنہ کا صیح اندیشہ ہو تو دفع مضرت کیلئے ووٹ دیدیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) روزہ جاتا رہے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نماز پوری کرے اور طلوع آفتاب کے بعد دہرائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۱ رذی قعدہ ۱۴۰۱ھ قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی مرکزی دارالافتاء، ۸۲ سوداگران، بریلی شریف