شوہر کے نان و نفقہ نہ دینے کی صورت میں عورت کے دوسرے نکاح کا حکم اور نسبندی کرانے والے کی امامت
۵ محرم الحرام ۱۳۹۹ھ شوہر نان و نفقہ نہیں دیتا ہے تو عورت دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ (1) ناہدہ آج ہیں سال سے میکہ میں پڑی ہے اس کا شوہر نان نفقہ بھی نہیں دیتا اور نہ کبھی پوچھتا ہے اور نہ طلاق دیتا ہے۔ ایسی صورت میں ناہدہ کیا کرے؟ ذریعہ معاش کا بغیر نکاح کے حل ہونا دشوار ہے ایسی حالت میں نکاح ثانی کر سکتی ہے یا نہیں؟ (۲) حامد نے اپنی مرضی سے نسبندی کرایا ہے اور وہ امامت کرتا ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نا جائز ؟ المستفتى :عبدالحفيظ خابر گڑھ ضلع سنبھل پور
(1) نہیں اس سے جس صورت بنے طلاق لیں خواہ کچھ دیگر یا مہر معاف کر کے یا حاکم کے جبر واکراہ سے زبانی طلاق کہلوالیں پھر بعد انقضائے عدت دوسرے سے نکاح حلال ہوگا واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جب تک تو بہ نہ کر لے اسے امام بنانا گناہ ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۷ ربیع الاول ۱۴۰۲ھ