سونے چاندی کے زیورات پر زکوۃ اور وصول شدہ قرض پر زکوۃ کی ادائیگی کا حکم
سونے چاندی کے زیورات پر مطلقا ز کوۃ فرض ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ (1) ایک مولوی صاحب نے سونے چاندی کے پہنے ہوئے زیورات پر زکوۃ نہ دینے کا فتوی دیا کیا یہ صحیح ہے؟ (۲) عام طور پر شعبان و رمضان میں زکوۃ نکالی جاتی ہے اگر قرض کی رفتم یا دیگر ذرائع کی رفتم رمضان المبارک کے آخری ہفتہ میں یا عید سے قبل ملے تو کیا اس رقم پر بھی اسی وقت زکوۃ ادا کرنا چاہئے یا آئندہ سال؟
الجواب: (1) سونے چاندی کے زیورات پر مطلقا ز کوۃ فرض ہے جبکہ نصاب بھر ہو اور حاجت اصلیہ اور دین سے فاضل ہوں اور سال گزرگیا ہو، انہوں نے غلط بتایا، رجوع کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اسی وقت زکوۃ ادا کرے اور تاخیر نہ کرے بشرطیکہ قرض کی رقم بقدر نصاب یا خمس نصاب مل جائے اور قرض کی رقم سے گزشتہ سالوں کی زکوۃ دے پھر اگر نصاب بھر بیچ رہے تو سال رواں کی بھی زکوۃ دے اور دیگر ذرائع سے جو ملے وہ بھی نصاب میں ضم کیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله