قبرستان کی خرید و فروخت، عیدگاہ کی زمین پر ناجائز قبضہ اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹی درخواست کا حکم
کہا کہ اب ہم آٹھ ہزار روپیہ لیں گے پھر جملہ اہل اسلام نے آٹھ ہزار روپیہ دے کر بیعنامہ کرالیا۔ لہذا ایسے شخص کے بارے میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ صادر فرمایا جائے۔ (۳) اور زید نے بکر کو ورغلا کر مسلمانوں کے خلاف ایک درخواست کلکٹر صاحب کو دلوادی مسلمان میرے مکان کے سامنے بوچڑ خانہ بنارہے ہیں، درخواست اس نیت سے دی کہ مسلمان گرفتار ہوں اور میں اس آراضی پر ناجائز قبضہ کروں ۔ جس آراضی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے وہ آراضی امام باڑہ کے نام سے ہے۔ لہذا جو مسلمان اس دور میں مسلمانوں کے خلاف ایسی درخواست کرے اور امام باڑہ کی جگہ پر ناجائز قبضہ کرے، ایسے شخص کے بارے میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟
الجواب: (1) قبرستان کی خرید و فروخت ہرگز جائز نہیں اور قبرستان میں دکان و مکان بنانا بھی اشد حرام ہے، جو لوگ اس کے مرتکب ہوئے، اشد گنہ گار ہوئے ، ان پر تو بہ لازم ہے کہ تو بہ کریں اور اپنا یہ تصرف زائل کریں، قبرستان سے ناجائز قبضہ اُٹھا ئیں ورنہ ہر واقف حال مسلمان انہیں چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ شخص اشد گنہ گار مستوجب غضب جبار ہے، اسے عیدگاہ کی آراضی پر قبضہ کرنا حلال نہیں اور وہ رقم جو مسلمانوں سے لی محض حرام ہے، اس پر لازم ہے کہ ناجائز قبضہ اُٹھائے اور وہ رقم واپس دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اشد گنہ گار ہے، تو بہ کرے اور جن کے خلاف جھوٹی درخواست دی ہے، ان سے معافی چاہے اور ناجائز قبضہ اُٹھائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله