قبرستان کی زمین کی خرید و فروخت اور عید گاہ کے وقف میں رکاوٹ ڈالنے کا حکم
قبرستان کی خرید و فروخت ہرگز جائز نہیں! کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ ۹ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ (1) زید و عمر و وغیرہ نے ایک قبرستان کا بیعنامہ متولی سے کروالیا، آبادی میں دوکانیں بنوانے کی نیت سے اور ایک اہل ہنود کو خریدنے میں شامل کر لیا، اس قبرستان میں ہزاروں قبریں ہیں اور ایک ولی کا پرانا پختہ مزار بھی بنا ہوا ہے، سانکر شاہ کے نام سے مشہور ہے، سالانہ عرس بھی ہوتا ہے۔ لہذا قبرستان میں آبادی کرنا جائز ہے؟ جن لوگوں نے قبرستان خریدا ہے ان لوگوں کے بارے میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ (۲) زید کو مسجد اور عید گاہ کی دیکھ بھال کے لئے مقرر کر دیا تھا لیکن کسی وجہ سے اس کے نام درج ہو گیا تھا ، عید گاہ کو وسیع کرنے کی ضرورت پڑی تب زید نے روکا اور کہا کہ ہم نہیں بنانے دیں گے۔ جملہ اہل اسلام نے کہا کہ یہ آراضی آپ کی نہیں ہے، یہ تو عید گاہ کی ہے جو زمینداروں نے عید گاہ کے لئے وقف کر دی تھی لیکن زید نہیں مانا اور یہ کہا کہ ہم نہیں چھوڑیں گے ، ہم اس کے پانچ ہزار روپیہ لیں گے، پھر مسلمانوں نے چندہ لینا شروع کردیا اور کل روپیہ کر لیا پھر زید سے کہا کہ چلو بیعنامہ کر دو، زید مکر گیا اور یہ
(1) قبرستان کی خرید و فروخت ہرگز جائز نہیں اور قبرستان میں دکان و مکان بنانا بھی اشد حرام ہے، جو لوگ اس کے مرتکب ہوئے، اشد گنہ گار ہوئے ، ان پر تو بہ لازم ہے کہ تو بہ کریں اور اپنا یہ تصرف زائل کریں، قبرستان سے ناجائز قبضہ اُٹھا ئیں ورنہ ہر واقف حال مسلمان انہیں چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ شخص اشد گنہ گار مستوجب غضب جبار ہے، اسے عیدگاہ کی آراضی پر قبضہ کرنا حلال نہیں اور وہ رقم جو مسلمانوں سے لی محض حرام ہے، اس پر لازم ہے کہ ناجائز قبضہ اُٹھائے اور وہ رقم واپس دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اشد گنہ گار ہے، تو بہ کرے اور جن کے خلاف جھوٹی درخواست دی ہے، ان سے معافی چاہے اور ناجائز قبضہ اُٹھائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم