بے وضو درود پڑھنا اور مجبوری میں نس بندی کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ (۱) ہمیشہ درود شریف اور دیگر آیات کا ورد کرتے رہتا ہوں تو ضو ٹوٹ جانے پر ورد کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) آج کل تو خاندانی نسبندی پر سختی جاری ہے اور ملازمت پر اور سختی ہے اور سختی سے آپریشن کیا جا رہا ہے۔ بتلائیے ایسے وقت میں شرع کا کیا حکم ہے؟ المستني : محمد ہاشم خاں
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (1) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) سچے مجبور ومعذور پر الزام نہیں۔ قال تعالیٰ: فَمَنِ اضْطَرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ) واللہ تعالیٰ اعلم سورة البقرة:۷۳ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۹ رذی الحجہ شریف
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۰ · صفحہ ۳۹۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بیوی کی کمائی، بے وضو بیٹھنے، جھوٹ کی تلقین اور مسجد کی افطاری پر طنز کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
زکوۃ و فطرہ کا مصرف، بیعت، قربانی کا گوشت، انگوٹھا چومنا، ٹیریکاٹ کا کفن اور ریشم کا استعمال
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
ثمن مجہول ہونے کی صورت میں بیع کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
قبرستان کی زمین کی خرید و فروخت اور عید گاہ کے وقف میں رکاوٹ ڈالنے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
مورث اپنے وارث کو ترکہ سے محروم نہیں کر سکتا !
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ