ثمن مجہول ہونے کی صورت میں بیع کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ یہاں بیچ کا ایک رواج یہ ہے کہ بائع اپنی جنس مثل چنے ، سرسوں، کپاس وغیر ہ تجارتی کو وزن کر کے دے دیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ جب اور جس دن میری مرضی ہو گی سنگر یا غلہ منڈی میں اس دن جو بھاؤ ہوگا اس جنس کا اس حساب سے بھاؤ لگا کر پیسے لے لوں گا۔ پھر ارزاں یا گراں ہوتارہتا ہے۔ جب بائع کی مرضی ہوتی ہے، دو چار ماہ یا سال دو سال بعد اس دن سنگر یا غلہ منڈی کے بھاؤ سے حساب لگا کر پیسے لے لیتا ہے۔ تجارتی کو اس میں یہ فائدہ ہے کہ وہ اس جنس کو فروخت کر کے ان پیسوں سے تجارت کرتا رہتا ہے اور بائع کو یہ فائدہ ہے کہ اس جنس کی حفاظت کرنے سے بچ جاتا ہے۔ عرض کرنا یہ ہے کہ ایسی بیج درست ہے یا نہیں؟ جواب مستحکم عنایت فرما ئیں قرآن وحدیث کی روشنی میں ۔ عین نوازش و کرم ہوگا۔ المستفتی: محمد علی اشرفی گڑیا براد سنگر یا ضلع گنگا نگر ( راجستھان) ۲۷ ؍رجب المرجب ۱۴۱۰ھ
الجواب: صورت مسئولہ میں یہ جنس کی بیع نہیں ہوئی کہ ثمن مجہول ہے۔ البتہ وہ جنس لینے والوں کے ذمہ قرض ہے جس کی ادائیگی بصورت زر ہوتی ہے اور اس وقت اس معاملت کو بیع و شراء قرار دے سکتے ہیں اور یہ معاملت جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۶ / رمضان المبارک ۱۴۱۰ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی