نماز کی توہین کرنے والے اور اسے "چھپر پر رکھ دو تاکہ سوکھے" کہنے والے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص پیری مریدی کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ مجھ سے مرید ہو جاؤ اور نماز کو چھپر پر رکھ دو تاکہ سوکھے ۔ کیا اس شخص سے مرید ہونا جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسے الفاظ کہنا شریعت کا اس کے اوپر کیا حکم ہوگا ؟ فقط المستقنى: محمد یاسین میاں گنج ضلع فرخ آباد (یویی)
الجواب: جس نے یہ جملہ ملعونہ بکا کہ عیاذ باللہ نماز کو چھپر پر رکھ دو کہ سوکھے، اس نے نماز کی سخت تو ہین کی اور اسلام سے خارج ہو گیا، اس پر تو بہ و تجدید ایمان لازم ہے اور بیوی ہوتو تجدید نکاح بھی کرے، اس سے بیعت ہونا حرام بلکہ کفر انجام ہے۔ درمختار میں ہے: تبجیل الکافر کفر ) واللہ تعالیٰ اعلم مائل شتی فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ / رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی