ایک لڑکے اور تین لڑکیوں کے درمیان تقسیم وراثت کا طریقہ
سوال
متوفی نے ایک لڑکا تین لڑکیاں چھوڑی، کسے کتنا ملے گا؟ جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: صورت مسئولہ میں آپ کے والد کا ترکہ بعد تقدیم ما تقدم وادائے دیون وغیرہ چالیس سہام پر منقسم ہو گا جن میں سے ۱۶ سہام لڑکے کو اور ۸/۸ /سہام ہرلڑ کی کوملیں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۰ · صفحہ ۳۸۴–۳۸۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
دیہات میں عید کی نماز سے قبل قربانی اور ذبیحہ کے گوشت سے متعلق مسئلہ
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
نماز کی توہین کرنے والے اور اسے "چھپر پر رکھ دو تاکہ سوکھے" کہنے والے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
طلاق ثلثہ کے بعد بے حلالہ شوہر اول سے نکاح باطل !
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
مورث اپنے وارث کو ترکہ سے محروم نہیں کر سکتا !
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
زکوۃ کا مسجد میں صرف، دیوبندیوں کے کفر میں شک کرنے والے کا حکم اور بہشتی زیور پڑھنے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ