طلاق ثلثہ کے بعد بے حلالہ شوہر اول سے نکاح باطل !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے گھر میں ہندہ کو طلاق دی جہاں کوئی گواہ نہیں تھا، باہر آکر زید نے لوگوں سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس پر محلہ کے لوگ جمع ہوئے اور زید سے معلوم کیا: تو نے کیا اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے؟ تو زید نے کہا: ہاں، میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، اب میں کسی حالت میں اس کو رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ تب محلہ والوں نے ہندہ کا سامان واپس کرا دیا اور مہر ہندہ کو دلوادیا اور فور اطلاقنامہ تحریر کر دیا تحریر طلاق نامہ پر ۱۳ بار فقط طلاق تحریر کیا گیا۔ دونوں یعنی زید وہندہ کے انگوٹھے کا نشان لگوایا دیا گیا۔ ہندہ باپ کے ساتھ چلی گئی۔ ۱۲ جنوری ۱۹۹۸ء کو قریب ۶ ماہ بعد زید نے ایک مسئلہ تحریر کیا جس میں زید کا بیان ہے کہ میں نے غصے میں آکر اپنی بیوی کو کہا کہ میں نے طلاق دی، صرف اتنالفظ کہا۔ اس صورت میں اسلام کا کیا حکم ہے؟
طلاق ثلثہ کے بعد بے حلالہ شوہر اول سے نکاح باطل ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے گھر میں ہندہ کو طلاق دی جہاں کوئی گواہ نہیں تھا، باہر آکر زید نے لوگوں سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس پر محلہ کے لوگ جمع ہوئے اور زید سے معلوم کیا: تو نے کیا اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے؟ تو زید نے کہا: ہاں، میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، اب میں کسی حالت میں اس کو رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ تب محلہ والوں نے ہندہ کا سامان واپس کرا دیا اور مہر ہندہ کو دلوادیا اور فور اطلاقنامہ تحریر کر دیا تحریر طلاق نامہ پر ۱۳ بار فقط طلاق تحریر کیا گیا۔ دونوں یعنی زید وہندہ کے انگوٹھے کا نشان لگوایا دیا گیا۔ ہندہ باپ کے ساتھ چلی گئی۔ ۱۲ جنوری ۱۹۹۸ء کو قریب ۶ ماہ بعد زید نے ایک مسئلہ تحریر کیا جس میں زید کا بیان ہے کہ میں نے غصے میں آکر اپنی بیوی کو کہا کہ میں نے طلاق دی، صرف اتنالفظ کہا۔ اس صورت میں اسلام کا کیا حکم ہے؟ مرکزی دار الافتاء ۸۲ سوداگران، بریلی شریف سے جواب آیا: ( الجواب ) اگر واقعی زید نے اتنا ہی کہا کہ میں نے طلاق دے دی تو اس کی بیوی پر طلاق رجعی ہونے کا حکم ہے۔ عدت کے اندر زید نکاح میں لوٹا سکتا ہے۔ جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو پر ہیز گار شخصوں کے سامنے کہدے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی اور عدت گزرگئی تو عورت کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے اور اگر لفظ دی ۳ر بار کہا ہے تو عورت بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ یہ فتویٰ قاضی کو دکھا کر دوبارہ نکاح کر لایا۔ جب اہل محلہ کو معلوم ہوا کہ زیدا اپنی بیوی کو واپس لے آیا ہے پھر محلہ کے لوگ جمع ہوئے اور زید سے کہا کہ جب تو اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہے اب کیوں لایا ؟ تو زید نے جواب دیا کہ میں نے دو بار طلاق دی اور کہتا ہے، میں مسئلہ لایا ہوں تب محلہ کے لوگوں نے کہا کہ اس وقت تو نے کیوں نہیں کہا کہ میں نے دو بار کہا ہے؟ لہذا محلہ کے لوگوں نے زید کے بیان کا اعتبار نہیں کیا کیونکہ زید نے ہر آدمی سے کہا کہ میں نے طلاق دے دی۔اب جو حکم شرعی ہے وہ فرمادیں۔ الجواب: از طرف شمشاد حسین طلاق نامہ اور مذکورہ سوال و جواب ملاحظہ ہوا جس میں شوہر نے تین طلاقیں اپنی بیوی کو تحریر کیں، اس کی رو سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں جبکہ طلاق نامہ کے مضمون پر مطلع ہو کر بے جبر و اکراہ دستخط کیے ہوں ۔ اب زید پر اس کی بیوی ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی اس سے نکاح حلال نہ ہوگا۔ لہذا اگر واقعی زید کا شرعی طور پر حلالہ نہ ہوا تو زید کا اس سے نکاح حرام قطعی، باطل ہوا۔ دونوں پر ایک دوسرے سے علیحد گی فرض ہے اور تو بہ دور جوع بھی ، ورنہ ہر واقف حال انہیں چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۱ رشوال المکرم ۱۴۰۵ھ