فضائل ختم قرآن کی احادیث پر اعتراض اور لفظ ختم قرآن کے استعمال کا حکم
مجدد دین وملت امام اہل سنت حضور فاضل بریلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے مترجم قرآن پاک کے لئے آخری صفحہ پر فضائل ختم قرآن میں جو احادیث نقل فرمائی گئی ہیں، انکو ایک حافظ صاحب ضعیف بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ختم قرآن کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ حافظ اپنے قول میں حق بجانب ہے ؟ اگر نہیں ہے تو ایسے حافظ کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ المستفتی: محمد جمیل خاں رضوی، رہپورہ چودھری ضلع بریلی شریف
الجواب: ان پر لازم ہے کہ کتب معتمدہ کی حدیث سے ان احادیث کا ضعیف ہونا بتائیں، بے دلیل ان کا دعوئی نامعتبر وغیر مسموع اور بر تقدیر تسلیم ان کا دعویٰ انہیں کچھ مفید نہیں کہ محدثین کے نزدیک حدیث ضعیف فضائل اعمال و ر جال میں مقبول ہے کما صرحوا بہ قاطبہ ۔ تعجب ہے کہ ضعیف ہونے کا دعویٰ تو کر دیا مگر ضعیف کے حکم سے بے خبر ہیں اور ختم قرآن کہنا صحیح ہے، اسے غلط بتانا غلط ہے، حافظ پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۱۶ ؍ ربیع الاول ۰۴