ایک سے زائد دولہوں کے لیے خطبہ، نماز جنازہ میں متعدد میت اور طلاق قبل الخلوت کے احکام
(۲) صاحبان کو ایجاب وقبول کرائے یا ہر ایک نوشہ کے لئے الگ الگ خطبہ پڑھیں؟ اسی طرح نماز جنازہ میں ایک سے زائد میت موجود ہوں تو نماز جنازہ سب میت پر الگ الگ پڑھی جائے یا ایک ہی نیت سے سب کی ہو جائے گی ؟ (۳) زید نے مشتری سے شادی کی، اتفاق سے کچھ تکرار پیدا ہو جانے کی وجہ سے فوراً طلاق ہوگئی، مشتری عدت میں رہے گی یا نہ رہے گی ؟ پھر دو چار دن کے بعد اپنے نکاح میں لاسکتا ہے یا حلالہ کرا کے لائے؟ حالانکہ پہلی شادی میں زید نے مشتری سے کچھ باتیں تک نہ کی تھیں ، مشتری کے جسم پر ہاتھ رکھنا در کنار ہے۔ زید اور مشتری دونوں بالغ ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور اگر دونوں نابالغ ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟ یازید بالغ مشتری تا بالغ یا مشتری بالغ اور زید نابالغ ، اس مسئلہ پر کیا حکم ہے؟
الجواب: (1) وہ زیادتی خالص مباح ہے، سود نہیں، نہ اسے سود سمجھنا جائز ہے، اور اسے لینا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) دونوں طرح اختیار ہے، یہی حکم نماز جنازہ کا بھی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اگر خلوت صحیحہ نہیں ہوئی تو عدت نہیں اور اگر ایک ہی جملہ میں تین طلاق دی ہوں تو حلالہ ضروری ہے اور یوں کہا کہ تجھے طلاق دی، طلاق دی ، طلاق دی۔ تو ایک ہی طلاق سے وہ نکاح سے باہر ہوگئی، اب حلالہ کی ضرورت نہیں۔ زید اگر نا بالغ ہے تو طلاق نہ ہوئی اور مشتری اگر نابالغہ ہے تو نکاح اس کا ولی کرے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی یکم رشعبان المعظم ۸ ۱۳۹۸