ٹیلیویژن کا حکم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں نازیبا کلمات کا شرعی حکم
سائل شتی تصاویر کو کس کے بہانے حلال کرنا تحلیل ما حرم اللہ وضلال و اضلال ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسائل میں کہ (1) ٹیلیویژن رکھنے اور دیکھنے کا کیا حکم ہے؟ بعض لوگ اس کو جائز کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تصویر نہیں ہے بلکہ عکس ہے۔ (اقول ) یہی بات کچھ مدت پہلے مودودی نے سنیما کے جواز کے سلسلہ میں کہی تھی تو اس معنی کر سنیما بھی جائز ہونا چاہئے اور ان دونوں میں وجہ فرق کیا ہے؟ (۲) ایک شخص سید ناصدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان مبارک میں فضیلت ثابت کرنے کے لئے اس طرح استدلال کرتا ہے، کہتا ہے کہ مولائے ما حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم زہد و ترک دنیا میں پنجتن سے بڑھ کر تو کیا ان کے برابر بھی نہیں تھے ، آپ نے بہت ساز وسامان جمع کیا ، زمین خریدی، کھیت و باغ حاصل کئے ، وصال کے بعد چار بیویاں تیس لڑکے لڑکیاں اور اکیس لونڈیاں، بہت سے غلام چھوڑے۔ پھر اپنی اولاد کے لئے بہت اثاثہ اور ساز وسامان جمع فرمایا اور انہیں اس قدر زمین دی کہ وہ صاحب نصاب اور غنی کہلاتے تھے، اور ان پر زکوۃ عائد ہوتی تھی۔ آپ کی مترو کہ زمینیں جو بعد میں آپ کی اولاد کے نام منتقل ہوئیں ان کی پیداوار کا تو حساب ہی کیا، صرف پانچ مترو کہ باغ کا جو پھل آتا تھا وہ تیس ہزار من ہوتا تھا ( پھر کیا ) صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹوں یا عزیز واقارب میں سے کسی کو کوئی عہدہ نہیں دیا لیکن اس کے برعکس مولائے ماحضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے اپنے خاندان اور اقارب سے عبد اللہ بن عباس کو یمن کا ، قاسم بن عباس کو مکہ معظمہ کا اور مسعد بن عباس کو مدینہ منورہ کا اور اپنے بھانجے سفیدہ بن ہبیرہ کو کوفہ کا اور اپنے پروردہ محمد بن ابی بکر کو مصر کا گورنر بنایا اور کہا مولائے ما حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضرت بی بی فاطمہ طیبہ طاہرہ کی موجودگی میں ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا اور پیغام نکاح بھیجا، اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رنج ہوا، پھر کہا مولائے ما حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نماز تہجد کے بارے میں بھی مور دعتاب سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔ لہذا ایسا کہنے والے کا شرعی حکم کیا ہے؟ بینوا توجروا المستنتی: محمد عبدالوہاب قادری رضوی
الجواب: (۳۷۷) سائل شتی (1) ٹیلیویژن بھی نا جائز ہے اور سنیما کی تصاویر کو کس کے بہانے حلال کرنا تحلیل ما حرم اللہ وضلال و اضلال ہے۔ مودودی کہتا ہے عکس ہے، بلا شبہ ہے مگر عکس قائم ہے جسے آدمی نے قائم کیا ہے تو اسے پانی اور آئینہ پر قیاس کرنا اس کا جنون ہے کہ وہاں کس قائم کہاں ؟ واللہ تعالی اعلم (۲) شخص مذکور کا یہ پورا مقالہ سیدنا صدیق اکبر علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہما کی طعن و تشنیع پر مشتمل ہے جو نا جائز و گناہ بلکہ گمراہی ہے۔ اہل سنت کا یہ داب نہیں ، ہمارے لئے جملہ صحابہ کرام واجب الاحترام اور تمام امت سے افضل ہیں اور خلفائے اربعہ سب صحابہ سے افضل اور ان میں افضل و اعلیٰ سید ناصدیق اکبر ہیں ۔ قال تعالیٰ: وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَنْقَى الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَلَى وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى (1) مفسرین نے فرمایا کہ صدیق اکبر کے بابت نازل ہوئی۔ تفصیل کے لئے سیدنا اعلیٰ حضرت کا رسالہ فضیات صدیق اکبر د یکھئے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم ۱۳ رشوال المکرم ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام،سوداگران، بریلی شریف