لفظ ختم قرآن کے استعمال کا شرعی حکم
سوال
ختم قرآن کا لفظ استعمال کرنا کیسا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ (1)
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
ان پر لازم ہے کہ کتب معتمدہ کی حدیث سے ان احادیث کا ضعیف ہونا بتائیں، بے دلیل ان کا دعوئی نامعتبر وغیر مسموع اور بر تقدیر تسلیم ان کا دعویٰ انہیں کچھ مفید نہیں کہ محدثین کے نزدیک حدیث ضعیف فضائل اعمال و ر جال میں مقبول ہے کما صرحوا بہ قاطبہ ۔ تعجب ہے کہ ضعیف ہونے کا دعویٰ تو کر دیا مگر ضعیف کے حکم سے بے خبر ہیں اور ختم قرآن کہنا صحیح ہے، اسے غلط بتانا غلط ہے، حافظ پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۰ · صفحہ ۳۷۷–۳۷۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
ٹیلیویژن کا حکم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں نازیبا کلمات کا شرعی حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
فضائل ختم قرآن کی احادیث پر اعتراض اور لفظ ختم قرآن کے استعمال کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
ایک سے زائد دولہوں کے لیے خطبہ، نماز جنازہ میں متعدد میت اور طلاق قبل الخلوت کے احکام
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
جائز کھیلوں کی تفصیل اور متعلقہ حدیث کی وضاحت
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
زکوۃ کا مسجد میں صرف، دیوبندیوں کے کفر میں شک کرنے والے کا حکم اور بہشتی زیور پڑھنے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ