جائز کھیلوں کی تفصیل اور متعلقہ حدیث کی وضاحت
سوال
جو تین کھیل جائز ہیں وہ کیا ہیں ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں کہ (۱) سید نا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے احکام شریعت حصہ اول میں ایک حدیث پاک نقل
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (۱) وہیں سر کا ر اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے ان تینوں کا ذکر فرمایا، جو یہ ہے کہ بیوی سے ملاعبت ، تیر اندازی اور اپنے گھوڑے کو سدھانا اور حدیث میں انہیں صوری و ظاہری طور پر لہوفر ما یا ورنہ بہ نیت لہو ولعب یہ امور بھی ناجائز ہیں۔ درمختار میں ہے: کرہ کل لهو ( ) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں، اتنی مدت تک انتظار کرے کہ غالب گمان ہو کہ انکا مالک انہیں تلاش نہ کرتا ہوگا۔ پھر جب مالک نہ ملے تو فقیر مسلم کو دے دے، وہ اگر اپنی خوشی سے اشاعت کے لئے دے دے تو جائز ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۷ ربیع الآخر ۱۴۰۵ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۰ · صفحہ ۳۷۳–۳۷۴
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
ایک سے زائد دولہوں کے لیے خطبہ، نماز جنازہ میں متعدد میت اور طلاق قبل الخلوت کے احکام
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
ٹیلیویژن کا حکم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں نازیبا کلمات کا شرعی حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
داڑھی نہ رکھنے کی حالت میں پڑھی گئی نمازوں کا اعادہ، قضا کی نیت اور فوج میں مجبوری کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
لفظ ختم قرآن کے استعمال کا شرعی حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
فضائل ختم قرآن کی احادیث پر اعتراض اور لفظ ختم قرآن کے استعمال کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ