زکوۃ کا مسجد میں صرف، دیوبندیوں کے کفر میں شک کرنے والے کا حکم اور بہشتی زیور پڑھنے کا حکم
(۳) میں سر ہینا کہتے ہیں اور فصل کے موقع پر نکالتے ہیں، کیا یہ سر بینا یعنی زکوۃ مسجد میں دینا جائز ہے یا نہیں؟ (۴) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کا اور تمام علمائے اہلسنت کا یہ فتویٰ ہے کہ دیو بندی کافر ہیں، جو شخص دیو بندی کو کافر کہنے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ لہذا جو حضرات دیو بندیوں کو کافر کہنے میں شک کرتے ہیں ان لوگوں کو امام بنانا یا ان سے تکبیر پڑھوانا یا انہیں سنی یعنی بریلوی سمجھنا یا انہیں پیر سمجھنا جائز ہے یا نہیں؟ (۵) مولانا اشر فعلی تھانوی صاحب کی جو بہشتی زیور کتاب ہے جو شخص اسکی بہشتی زیور کتاب کو پڑھے یا اسکی تعلیم دوسروں کو دے یا اس کتاب کے مسئلوں پر عمل کرے کیا وہ شخص مسلمان ہے یا نہیں؟
الجواب: (1) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (2) نہیں ، اس کا مستحق فقیر مسلم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) فقیر مسلم کو دے کر مالک بنا دیں، وہ اپنی خوشی سے مسجد کو دیدے تو حرج نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جو دیوبندیوں کے نظریات پر مطلع ہو کر انہیں سنی جانے بلکہ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی انہیں کی طرح مرتد بیدین ہے، اس کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے اور اس کی اذان نادرست اور تکبیر کہلوانا ممنوع و گناہ ہے اور اسے دانستہ سنی بریلوی سمجھنا اور امام و پیر معظم جاننا کفر انجام ہے۔ کفایہ میں ہے: والكافر لا صلوة له فالاقتداء بمن لا صلوة له باطل (1) در مختار میں ہے: جزم المصنف بعدم صحة اذان مجنون و معتوه و صبی لا یعقل قلت و کافر فاسق لعدم قبول قوله في الديانات (1) اسی میں ہے: تبجيل الكافر كفر لو قال لمجوسی یا استاذ تبجیلا کفر (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ایسا شخص دیو بندی ہے اور دیو بندی کا حکم گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ / رمضان المبارک ۱۴۰۷ھ (1) الدر المختار، كتاب الصلوۃ، باب الاذان ، ج ۲، ص ۲۱ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) الدر المختار، کتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء وغيره، ج ۹، ص ۵۹۲/۵۹۱، دار الكتب العلمية بيروت