دیہات میں عید کی نماز سے قبل قربانی اور ذبیحہ کے گوشت سے متعلق مسئلہ
دیہات کے اندر بقرعید کی نماز سے قبل قربانی کیسی ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ (1) پوسوا گوشت جو ذبیح کے بعد سانس کے ذریعہ ہوا دے کر پچھلا دیا جاتا ہے۔ بعدہ خوب گرم پانی
(1) دے کر یا گرم پانی میں ہی ڈال کر بال اڑادیا جاتا ہے اب اس گوشت کا کھانا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟ بعض کا کہنا ہے کہ وہ گوشت کھانا جائز نہیں ہے کیونکہ اندر مغز حرام وغدود وغیرہ دیگر اعضا جس کا کھانا نا جائز ہے اس گوشت میں سرایت کرتا ہے خلاصہ جواب سے اطلاع فرما یا جائے۔ (۲) ذبیحہ کا چمڑا گوشت سے الگ ہو، اسکا کھانا حلال ہے یا حرام؟ زید کا کہنا ہے کہ جب گوشت سے الگ ہو تو اس کا کھانا حرام ہے مگر بکر کا کہنا ہے کہ جس کی ممانعت شرع میں نہ ہو وہ حلال وجائز ہے۔خلاصہ جواب عنایت کیا جائے۔ (۳) دیہات کے اندر بقر عید کی نماز ے بل قربانی کی ہے؟ جبکہ وہاں جعہ وعیدین کی نماز ہوتی ہو۔ المستفتی: محمد رحمت علی رضوی الجواب: مقام بہرہ، ڈاکخانہ جلیشور ضلع مہوتری ( نیپال ) (1) حرام اجزاء اور آلائش کو دور کر کے پاک کرنے کے بعد اسے کھانا جائز ہے اور اب ناجوازی کی کوئی وجہ نہیں، البتہ آلائش دور کیے بغیر اسے پانی میں ڈالنا نہ چاہئے کہ تلویث و آلودگی ہے جس سے بچنا ضرور۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بکر کا قول صحیح ہے، زید کا قول بے دلیل وغلط ہے، اس پر اس سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی