مورث اپنے وارث کو ترکہ سے محروم نہیں کر سکتا !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسائل میں کہ اگر کوئی مسلمان اپنی اولاد کو نالائق و بد چلن سمجھ کر اپنی میراث سے محروم کر دے تو ایسا کرنا جائز ہے؟ اور اس پر کیا وعید ہے؟ اور خدانخواستہ لڑکا مر جائے اور پوتے کو اپنے پاس رکھ لے اور دوسرے شہر میں سکونت اختیار کرلے اور بہو کو چھوڑ دے تو لڑ کا ماں کی خدمت کر کے جنت کا حقدار بنے گا یا دادا کی خدمت کر کے؟ المستفتی محمد حنیف معرفت مفتی عبد العزیز خاں صاحب متصل لالہ کی بازار، محلہ چھوٹی بازار، فتح پور ( اتر پردیش)
الجواب: لڑکا اگر فی الواقع بد چلن ہے تو اس وجہ سے اسے باپ اپنی حیات میں اپنی جائیداد ورقم سے محروم کر سکتا ہے بایں طور کہ کل مال کسی کو دے کر قابض کر دے اور اپنے بعد اپنے ترکہ سے محروم نہیں کرسکتا۔ لہذا اگر وصیت کر جائے کہ میرا تر کہ فلاں وارث کو نہ ملے، ہرگز نافذ نہ ہوگی اور پوتے پر اس کی ماں کا حق زیادہ ہے۔ (1) الدر المختار، کتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، ج ۹، ص ۵۹۲ ، دار الكتب العلمية، بيروت حدیث میں ہے: ایک صحابی نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے پوچھا: من احق بحسن صحابتی قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال ثم امک قال ثم من قال ثم ابوک ( ) لوگوں میں میرے حسن صحبت کا بڑا حقدار کون ہے؟ فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں ، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) صحيح البخارى، كتاب الأداب، ج ۲، ص ۸۸۳، مجلس برکات