بیوی کی کمائی، بے وضو بیٹھنے، جھوٹ کی تلقین اور مسجد کی افطاری پر طنز کا حکم
سے بڑی محنت سے پیسہ کمائے تو بیوی کی کمائی کھانا جائز ہے۔؟ (1) بے وضو کروں بیٹھنا جائز ہے یا نہیں ؟ زید منع کرتا ہے۔ (۷) مولوی صاحب کی ایک چیز چوری ہو گئی تھی بعد مدت کے وہ چیز مل گئی تو زید نے مولوی صاحب سے یہ کہا: مولوی صاحب اب اپنی چیز جومل گئی ہے وہ چیز اگر کوئی صاحب معلوم کریں تو یہی بتاؤ کہ چوری ہوگئی تو مولوی صاحب نے کہا: میں جھوٹ نہیں بولوں گا اور یہ کہوں گا کہ چوری جو چیز ہوگئی تھی وہ ہل گئی تو زید کے لئے کیا حکم ہے جو مولوی صاحب کو یہ جھوٹ بولنے کی تلقین اور کوشش کر رہا تھا ؟ لیکن مولوی صاحب جھوٹ بولے نہیں۔ (۸) ہماری مسجد میں افطاری جب آتی ہے تو زید بڑے طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ اس میں مردوں کی روٹی بھی آتی ہے لوگ خوب کھاتے ہیں، یہ الفاظ خاص طور سے جمعرات کے دن خوب کہتا ہے کہ آج بھائی جمعرات ہے، آج خوب روٹی آئے گی مُردوں کی۔ یہ الفاظ زید کے درست ہیں یا نہیں؟ اور زید کے لئے کیا حکم ہے؟ المستفتی: رحمت اللہ، پیلی بھیت
الجواب: (1) مسائل شرعیہ میں بے علم کو دخل دینا منع ہے۔ قال تعالیٰ: وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ یعنی اس کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں۔ واللہ تعالی اعلم (۲) زید بے قید کا قول سراسر غلط و خلاف قرآن ہے، پانچوں وقت کی نماز فرض عین ہے جس سے ایک کا بھی منکر کا فربد دین ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) زید جاہل صوفی ، معلوم ہوتا ہے، اس کی بات یہ کان نہ دھرے، اسکا یہ قول سخت ہولناک اور کفری ہے وعیاذ باللہ تعالیٰ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) بہتان لگانا حرام ہے۔ زید پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بیوی کی کمائی اس کی رضا سے اس کے لئے حلال ہے اور زبردستی کھانا حرام ہے اور بقدر ضرورت کسب فرض ہے ، بے عذر شرعی اس کو چھوڑ نا حرام و گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) درست ہے منع کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) جھوٹ کی تلقین حرام و گناہ ہے جس سے زید پر تو بہ لا زم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) زید کا اعتراض محض بیجا ہے اور مسلمان پر بے وجہ طعن ایذائے مسلم ہے اور ایذائے مسلم حضور سال لا الہ یام کی ایذا ہے اور انکی ایذ اخدا کے عذاب کی موجب ہے۔ حدیث شریف میں ہے: ،، من اذى مسلما فقد اذانی و من اذانی فقداذی الله ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰ رشوال المکرم ۱۳۹۷ھ لقد اصاب من اجاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف